قدرتی نظام سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ

جغرافیہ بہت ظالم شے ہے۔ انسان تمام تر کاوشوں کے باوجود اس کے بنیادی تقاضوں سے نجات حاصل نہیں کر پایا ہے۔ ان تقاضوں سے چھیڑ چھاڑ ہی نے بلکہ ہمارے دور کے ماحول کو سنگین ترین مشکلات سے دو چار کر دیا ہے۔ ہر دوسرے روز موسلادھار بارش کی وجہ ہم مون سون سیزن کے بجائے ”کلاؤڈ برسٹ“ کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ یہ واقعہ بحیرہ عرب سے ہزاروں برسوں سے آئی ہواؤں کی وجہ سے رونما نہیں ہوتا ہے۔ وجہ اس کی ”مغربی ہواؤں“ میں نمی کا وہ تناسب ہے جو بادل سنبھال نہیں پاتا۔ ”پھٹ“ جاتا ہے۔
مون سون کی ہواؤں کی طرح ہزار ہا سال سے ہمارے ہاں کوہ ہمالیہ کے دامن اور اس کی چوٹیوں پر موجود گلیشیر بھی ہیں۔ برف کے یہ بھاری بھر کم ڈھیر موسم گرما میں پگھل کر ہمارے دریاؤں میں اکثر سیلاب برپا کرتے رہے ہیں۔ ہمارے خطے کے، جسے تاریخی اعتبار سے وادی سندھ پکارا جاتا ہے، تمام بڑے شہر دریاؤں کے کنارے ہی آباد ہوئے تھے۔ ان میں سے چند دریاؤں میں آئی طغیانی کی وجہ سے اب یہ اپنے مقام پر موجود نہیں رہے۔ دریا نے رْخ بدلا تو نئے مقام پر ایک نیا شہر آباد ہو گیا۔
برطانوی سامراج اس خطے میں قابض ہوا تو پنجاب کو فقط مقبوضہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ اپنی تمام کالونیوں کے لئے ”فوڈ باسکٹ“ بنانے کے جنون میں مبتلا ہو گیا۔ اسی جنون کے تحت اس نے دریاؤں سے نہریں نکال کر نئے رقبے آباد کیے۔ یہ رقبے اپنے وفاداروں کو بطور انعام سستے داموں الاٹ کیے۔ اسی باعث ہمارے خطے میں فدویانِ انگریز کی صورت ایسے ”خاندانی جاگیردار“ نمودار ہوئے جو اپنے علاقوں میں ”رعایا“ پر کڑی نگاہ رکھتے ہوئے انہیں غلام بنائے رکھتے۔ انگریز افسر کے دفتر میں کرسی مل جانا مگر ان کی نظر میں بہت بڑی ”عنایت“ شمار ہوتی۔ افسروں کے ہاں موسمی پھلوں سے بھری ”ڈالیاں“ بھیجنے کا راج بھی ان ہی دنوں شروع ہوا تھا۔ کرپشن کے خلاف دن رات ٹی وی سکرینوں اور یوٹیوب پر دہائی مچانے والوں کو آج تک سمجھ نہیں آئی کہ تحفے تحائف کے ذریعے ”سرکار ماں باپ“ کو رجھانے کا رجحان فقط برطانوی دور ہی میں نہیں بلکہ اس سے قبل قائم ہوئی سلطنتوں اور بادشاہوں کے ادوار ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ ہم اس عادت سے آج بھی نجات نہیں پا سکے ہیں۔
اصل موضوع کی جانب لوٹتے ہوئے اصرار یہ کرنا ہے ہمارے دریاؤں میں پانی کی آمد اور اس کے بہاؤ کا ایک قدرتی نظام ہے جس سے چھیڑ چھاڑ تاریخ کی چند دہائیوں میں تو بہت مفید محسوس ہوتی ہے۔ اس کے دور رس اثرات مگر ”کلاؤڈ برسٹ“ وغیرہ کی صورت نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی گزشتہ کئی برس سے قدرتی ماحول کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے تباہ کن نتائج ہمارے سامنے آرہے ہیں۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد کے سالوں میں بھارت یہ سوچنا شروع ہو گیا کہ وادیٔ سندھ کو ہزاروں سالوں سے میسر دریا نئے ملک کے کام نہ آئیں۔ دریاؤں کی روانی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نے بالآخر دونوں ملکوں کو سندھ طاس معاہدہ پر مجبور کیا۔ اس معاہدے کی بدولت جہلم، چناب اور سندھ تو ہم نے اپنے لئے بچا لئے۔ راوی کے کنارے صدیوں سے آباد لاہور کا دریا مگر بھارت کے سپرد کر دیا۔ اس معاہدے کی وجہ سے لاہور میں روزمرہّ استعمال کا پانی حاصل کرنے کے لئے اب سینکڑوں فٹ تک کھدائی کرنا پڑتی ہے۔ لاہور کی صبح ویسی نہیں رہی جیسی میرے بچپن میں ہوا کرتی تھی۔ آبادی میں بے پناہ اضافہ بھی اس کا کلیدی سبب ہے۔ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا دھواں ہفتے میں کئی دن ہمیں چمکتے سورج کی جھلک دیکھنے سے بھی محروم رکھتا ہے۔
راوی سے محروم ہو جانے کے باوجود جماندرو لہوری ہوتے ہوئے میں سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کو نہایت دیانتداری سے تسلیم کرتا ہوں۔ مودی کی ہندوتوا سرکار مگراس سے مسلسل ناخوش ہے۔ گزشتہ برس دو خطوط کے ذریعے اس نے پاکستان اور بھارت کے مابین باہمی مذاکرات کے ذریعے مذکورہ معاہدہ پر ”نظرثانی“ کی خواہش کا اظہار کیا۔ نیک نیتی سے ہوئی ”نظرثانی“ واقعتاً ہو تو راوی سے محروم ہوئے علاقوں کا تقریباً سراب بن جانا بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔ رعونت اور نیک نیتی مگر ایک دوسرے کی ضد ہیں اور مودی حکومت ان دنوں حیران کن رعونت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
اپریل کا آخری ہفتہ شروع ہوتے ہی مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر خوفناک دہشت گرد حملہ ہوا تو کسی بھی نوعیت کا ثبوت فراہم کیے بغیر بھارت نے اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیا۔ ہمیں ”سزا دینے“ کے لئے یہ اعلان بھی کر دیا کہ بھارت اب سندھ طاس معاہدہ معطل کر رہا ہے۔ ”معطلی“ کے اعلان کے بعد 6 مئی سے 10 مئی تک پاکستان پر جنگ بھی مسلط کردی گئی۔ امریکی مداخلت سے وہ جنگ ایٹمی ہونے سے رک گئی مگر سندھ طاس معاہدے کی معطلی اپنی جگہ موجود ہے۔ جنگ بندی کے بعد ہوئی اپنی کئی تقاریر کے دوران بھارت کے وزیر اعظم ”میرے کسانوں“ کی ”سندھو دریا“ سے محرومی کا رونا رو رہے ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستان کے حصے میں آئے دریاؤں کے پانیوں کا رخ موڑنے کے لئے طویل تحقیق اور بے پناہ وسائل کے علاوہ بھاری بھر کم سرمایہ بھی درکار ہے۔ اس کے لئے کم ازکم دس برس تک انتظار کرنا ہو گا۔ نئے ڈیموں وغیرہ کی تعمیر کے بغیر پاکستان کا پانی منفی ذہن سے روکتے اور کھولتے ہوئے ہمیں چند کلیدی فصلوں کی بروقت بوائی سے روکنے کے علاوہ کسان کے خون پسینے سے جوان ہوتے پودے کو بہت سا پانی یک دم چھوڑ کر ”سیلاب“ کی نذر کیا جاسکتا ہے۔ آج سے چند دن قبل تک مودی سرکار ایسے ہی خیالات پر عملدرآمد کا سوچ رہی تھی۔
اس کے حصے میں آیا دریائے ستلج مگر ایک بار پھر بپھر گیا ہے۔ بھارت کے پاس اپنی زمینوں کو سیلاب سے بچانے کا اس کے علاوہ کوئی طریقہ ہی نہیں کہ وہ سیلاب کے پانی کو اپنا قدرتی راستہ لیتے ہوئے پاکستان پہنچنے دے۔ جموں کے دریائے توی کے ساتھ بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ قدرتی آفت کے روبرو بے بسی بھی مودی سرکار کو سندھ طاس معاہدہ کی معطلی منسوخ کرنے کو تیار نہیں کر رہی۔ سندھ طاس معاہدے کے ذریعے دونوں ملکوں نے ”واٹر کمیشن“ قائم کر رکھے ہیں۔ ان کے باقاعدہ سربراہ بھی تعینات ہوئے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ ہوتا رہا کہ دونوں ملکوں کے انڈس واٹر کمیشن ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے ہوئے پانی کی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین معلومات کا تبادلہ کیا کرتے تھے۔ سندھ طاس معاہدے کی ”معطلی“ کو ایک حوالے سے برقرار رکھنے کے لئے بھارت نے پاکستان کو اپنے اسلام آباد میں موجود سینئر ترین سفارتکاروں کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ جموں کے دریائے توی میں سیلاب کا خطرہ ہے اور ستلج کا پانی پاکستان آ رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے ذریعے قائم ہوئے بندوبست کو بھلا کر ہمیں دریائی پانی کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرنا اپنے تئیں ایک خوشگوار پیش قدمی ہے۔ اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے بھی پاکستان کو مصر رہنا ہو گا کہ سندھ طاس معاہدے کی بلا چوں چرا پیروی کی جائے۔ وگرنہ اس خطے کا مقدر قدرتی آفتوں کی بدولت مچی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
