بلاگ

افغانستان میں: طالبان کے ہاتھوں انسانی حقوق کی موت

Yousaf Siddiqui haroon abad

افغانستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس بار توجہ کی وجہ سیاست یا امن کے منصوبے نہیں بلکہ وہ قوانین ہیں جو طالبان نے اپنی حکومت کے تحت نافذ کیے ہیں۔ یہ قوانین صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ ایک معاشرتی نظام کی کھلی تصویر ہیں جس میں انسانیت، انصاف اور بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ طالبان کے نئے فوجداری ضابطے، گھریلو تشدد کی مشروط اجازت، خواتین اور بچوں کے حقوق پر سخت پابندیاں اور مغربی ثقافت کے مظاہر پر قدغن یہ واضح کرتے ہیں کہ ان کا مقصد معاشرے کو کنٹرول کرنا ہی نہیں بلکہ خوف اور غیر انسانی رویوں کو ریاستی سطح پر قانونی حیثیت دینا ہے۔

طالبان کے نئے فوجداری ضابطے کی سب سے نمایاں خصوصیت معاشرتی درجہ بندی ہے۔ اس ضابطے کے تحت معاشرہ سوشل کلاسوں میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں مذہبی علما اور طاقتور طبقے کو سب سے اعلی مقام دیا گیا ہے اور عام شہریوں کو نچلے درجے میں رکھا گیا ہے۔ عدالتیں، جو انسانی معاشروں میں انصاف کے ستون ہوتی ہیں، طالبان کے افغانستان میں صرف طاقتور طبقے کی خدمت کرتی ہیں۔ کمزور اور متوسط طبقے کے حقوق اور تحفظ کو نظر انداز کر کے ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے جہاں انصاف کے تقاضے اور مساوات کے اصول نظر نہیں آتے۔ یہاں خواتین کے حقوق تقریباً غیر موجود ہیں اور ان کی زندگی کے ہر پہلو کو مرد سرپرست یا مذہبی اختیار کے ماتحت محدود کیا گیا ہے۔

گھریلو تشدد کے حوالے سے طالبان نے قانون کے ذریعے شوہر کو اپنی بیوی اور بچوں پر جسمانی تشدد کرنے کی مشروط اجازت دی ہے بشرطیکہ واضح ہڈی ٹوٹنے یا کھلے زخم نہ ہوں۔ یہ اقدام نہ صرف عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ایک واضح پیغام بھی دیتا ہے کہ عورت اور بچوں کے جسم ریاستی نظریے کے مطابق قابل کنٹرول ہیں۔ عدالت میں عورت کو مکمل پردہ میں پیش ہونا پڑتا ہے اور مرد سرپرست کی موجودگی لازمی ہے، جس سے عورت ایک تابع اور بے اختیار فریق میں بدل جاتی ہے۔ اگر کوئی بیوی مرد کی اجازت کے بغیر رشتہ داروں سے ملتی ہے تو اسے سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ انسانی وقار اور آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عورتوں کو سماجی غلامی میں ڈالنے کی کوشش کے مترادف ہے۔

طالبان کا ماضی بھی اسی وحشت اور بربریت کی گواہی دیتا ہے۔ جب انہوں نے 1990 کی دہائی میں افغانستان پر قبضہ کیا تو انہوں نے نہ صرف خواتین کو تعلیم سے محروم کیا بلکہ عام شہریوں، اقلیتوں اور مخالفین کے ساتھ بے رحمی کا مظاہرہ کیا۔ عوامی جگہوں پر تشدد، پبلک پھانسی، ثقافتی ورثے کی تباہی اور مذہبی اقلیتوں کے قتل عام ان کے مظالم کی واضح مثالیں ہیں۔ آج کے قوانین اسی ماضی کا تسلسل ہیں جس میں طاقت اور خوف کو ریاستی اجازت کے ساتھ قانونی شکل دی گئی ہے۔

طالبان نے مغربی طرز کے بال کٹوانے پر پابندی عائد کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فرد کی ذاتی آزادی اور ثقافتی اظہار ان کے نظریے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ لباس، وضع قطع اور سماجی رویوں پر پابندی کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں خوف، جبر اور ریاستی کنٹرول سب کچھ چھا جاتا ہے۔ ہر چھوٹا فیصلہ، ہر ذاتی انتخاب، طالبان کے نظریاتی فریم ورک میں گرفتار ہے اور اس کے خلاف جانے والے کو سزا کے خطرات کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی ردعمل اس پوری صورت حال کا ایک اہم پہلو ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور متعدد ممالک نے ان قوانین پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ قوانین عورتوں، بچوں اور کمزور طبقات کے خلاف واضح امتیازی سلوک پر مبنی ہیں۔ طالبان حکومت اس سب کو داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے دفاع کرتی ہے مگر حقیقت میں یہ انسانی حقوق کے عالمی معیار کے خلاف ہے اور طاقتور طبقے کے مفادات کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔

افغانستان میں طالبان کے یہ قوانین نہ صرف موجودہ نسل کے لیے خطرہ ہیں بلکہ مستقبل کے معاشرتی توازن اور انسانی وقار کو بھی متاثر کریں گے۔ ایک معاشرہ جہاں ریاست خوف اور وحشت کے ذریعے کنٹرول کرتی ہے وہاں انسانیت، عدل و انصاف اور آزادی کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ طالبان نے ماضی میں جو خون اور دہشت پھیلائی آج وہی روش قانونی شکل میں جاری ہے۔ اگر عالمی برادری نے بروقت توجہ نہ دی تو افغانستان میں انسانی حقوق کا مکمل خاتمہ اور معاشرتی آزادی کا زوال ایک حقیقت بن جائے گا۔

افغان عوام کے لیے یہ نہ صرف ایک سیاسی یا قانونی مسئلہ ہے بلکہ ایک انسانی المیہ بھی ہے۔ نوجوان نسل جو تعلیم، علم اور آزادی کی خواہاں ہے اسے ایک ایسے نظام میں جکڑا جا رہا ہے جو نہ صرف اس کے حقوق سلب کرتا ہے بلکہ اس کی ذہنی اور سماجی ترقی کو بھی محدود کر دیتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے ادارے اس بحران پر روشنی ڈال رہے ہیں مگر طالبان کی سوچ اور اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نہ صرف داخلی مخالفت کو کچلنا چاہتے ہیں بلکہ عالمی دباو¿ اور انسانی شعور کو بھی اپنی طاقت کے سامنے محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قانون صرف ضابطے کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی معاشرہ، انصاف، مساوات اور انسانی وقار کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ جب یہ اصول پامال ہوتے ہیں تو نہ صرف موجودہ نسل متاثر ہوتی ہے بلکہ آئندہ نسل کے لیے بھی آزادی اور انسانی حقوق کا قیام مشکل ہو جاتا ہے۔ طالبان کے قوانین نہ صرف طاقت کے غلط استعمال کی ایک کھلی مثال ہیں بلکہ وہ انسانی شعور اور حقوق کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW