پی آئی اے کی نجکاری

قومی ائر لائن پی آئی اے کی نجکاری ہو گئی ہے۔ عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بلند ترین بولی دے کر اس کے 75 فیصد حصص خرید لئے ہیں۔ حکومت پاکستان کے پاس 25 فیصد حصص باقی ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ ایک اہم قومی اثاثے کی فروخت پر خوشی منائی جائے یا سوگ۔
پی آئی اے کسی زمانے میں ہمارا فخر ہوا کرتی تھی۔ سارے ایشیا میں اس کا ڈنکا بجتا تھا۔ اس کا شمار ممتاز ترین ائر لائنز میں ہوتا تھا۔ برسوں پہلے دبئی کی ایمریٹس (Emirates) ائر لائن نے پی آئی اے سے دو طیارے کرائے (lease) پر لے کر اپنی ائر لائن کا آغاز کیا تھا۔ ہمارے پائلٹوں اور انجینئروں نے ایمرٹس ائر لائن کے عملے کی تربیت کی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایمرٹس کا شمار دنیا کی بہترین ائر لائنوں میں ہونے لگا۔ یہ کئی سو طیاروں پر مشتمل فلیٹ کی مالک بن گئی۔ اربوں ڈالروں کا منافع کمانے لگی۔ بہترین کارکردگی کے ایوارڈ جیتنے لگی۔ جبکہ امارات ائر لائن کی بنیاد رکھنے میں معاونت فراہم کرنے والی پی آئی اے بدترین کارکردگی کی مثال بن کر رہ گئی۔ اربوں روپے کے خسارے کا شکار ہو کر قومی خزانے پر مالی بوجھ بن گئی۔ اکتوبر 2023 میں پی آئی اے پر لکھا اپنا کالم میری نگاہ سے گزرا ہے۔ اس کا ایک پیرا یہاں درج کر رہی ہو۔ ”اطلاعات کے مطابق اس (پی آئی اے ) نے سعودی عرب کی 4 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے۔ 30 لاکھ ڈالر استنبول گراؤنڈ ائر پورٹ کے واجب الادا ہیں۔ جبکہ اڑھائی کروڑ ڈالر سے زائد رقم لیز پر حاصل کردہ طیاروں کی ادا کرنی ہے۔ اس کا ماہانہ خسارہ 12 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ جبکہ مجموعی خسارہ 112 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔“ یہ دو سال پرانے اعداد و شمار ہیں۔ یقیناً ان دو برسوں میں اس کے قرضے اور خسارے میں مزید اضافہ ہو گیا ہو گا۔
گزشتہ کئی برس سے قومی ائر لائن زبوں حالی کا شکار تھی۔ برسوں سے ماضی کے اس قابل فخر قومی اثاثے کی نجکاری کی باتیں ہو رہی تھیں۔ کئی بار نجکاری کی کوششیں ہوئیں، لیکن ثمر آور ثابت نہ ہو سکیں۔ وہ وقت بھی آیا جب کوئی پی آئی اے کو خریدنے کو بھی تیار نہیں تھا۔ 2024 میں اس کی نجکاری کے عمل میں آنے والی بولیاں حکومت کی توقعات سے بہت کم تھیں۔ اب بالآخر اس کی نجکاری ہو گئی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس نجکاری سے حکومت پاکستان کو قومی خزانے پر پڑنے والے بھاری بوجھ سے نجات ملے گی۔ نجی شعبے کی معاونت سے انتظامی معاملات میں بہتری آئے گی۔ پی آئی اے کی عالمی مسابقتی حیثیت اور مقام بحال ہو گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام باتوں کو درست مان لیا جائے تب بھی اس ساری صورتحال کا زیادہ فائدہ نجی شعبے کو حاصل ہو گا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پی آئی اے کی نجکاری عالمی بنک یعنی آئی۔ ایم۔ ایف کے پروگرام سے جڑی ہوئی ہے۔ آئی۔ ایم۔ ایف کی ہدایت تھی کہ حکومت پاکستان سرکاری اداروں کے نقصانات کو کم کرے اور اصلاحات متعارف کروائے۔
اس نجکاری پر بہت سوں کو شدید اختلاف ہے۔ تاہم اب یہ لکیر پیٹنے والا معاملہ ہے۔ ایک قصہ تھا جو تمام ہوا۔ یا قصہ پارینہ ہو گیا۔ تاہم اس بات پر غور ہونا چاہیے کہ ایک قابل فخر ادارہ بلکہ قومی اثاثہ کیونکر عبرت کا نشان بن گیا؟ یقیناً یہ سب راتوں رات تو نہیں ہو گیا۔ اس کے لئے کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس پر غور ہونا چاہیے کہ کیا کسی دور حکومت میں اس قومی اثاثے کو بحال کرنے کی سنجیدہ کوششیں ہوئیں؟ اگر ہوئیں تو یہ بار آور ثابت کیوں نہیں ہو سکیں؟
یہ زبوں حالی صرف پی آئی اے کا المیہ نہیں ہے۔ سرکاری اور قومی اداروں کی ایک طویل فہرست ہے جو زوال اور بد حالی کا شکار ہیں۔ یہ ادارے برسوں سے خسارے میں ہیں اور قومی خزانے کے اربوں روپے ہڑپ کرتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز کو دیکھ لیں۔ سرکاری چینل پی۔ ٹی۔ وی، ریڈیو پاکستان، پاکستان ریلوے، الیکٹرک سپلائی کمپنیاں اور دیگر۔ بیشتر ادارے خسارے کا شکار ہیں۔ جو منافع کما رہے ہیں وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں اور ان کا منافع بھی مونگ پھلی کے دانوں کے برابر ہے۔ یعنی کھربوں روپے کے اثاثوں کا حامل کوئی ادارہ اگر چند ارب روپے منافع کما کر دیتا ہے تو اسے آپ مونگ پھلی کے دانے ہی سمجھیں۔ چند برس پہلے عالمی بنک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے سرکاری یا ریاستی انتظام کاری کے تحت چلنے والے کاروباری ادارے جنوبی ایشیا میں بدترین ہیں۔ یہ کم ترین منافع کماتے ہیں اور ان کا مجموعی خسارہ ان کے اثاثوں کی مالیت سے بڑھ گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا منافع بخش بنانے کے لئے تمام سرکاری اداروں کی نجکاری کر دی جائے؟ انہیں نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے؟ لازم ہے کہ مسئلے کی نشاندہی کر کے سرکاری اداروں کا قبلہ درست کیا جائے۔ کچھ مسائل تو ہمیں بھی معلوم ہیں۔ مثال کے طور پر پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری اداروں میں جواب دہی اور احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے۔ پکی نوکری کے بعد عمومی طور پر ملازمین جواب طلبی کے ڈر، خوف سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ جبکہ نجی ملازمت میں ایسا نہیں ہوتا۔ جب سیٹھ کی جیب سے تنخواہ جاتی ہے تو آپ کو اپنی ناقص کارکردگی کے لئے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی کوٹھی یا کوٹھری میں کھولا گیا ٹی وی چینل یا ایف ایم ریڈیو تو خوب منافع کماتا ہے، لیکن کھربوں روپے کے اثاثوں کے حامل سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پاکستان خسارے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چند کنالوں یا ایکٹروں پر قائم پرائیویٹ کالج یا یونیورسٹی تو خوب نفع میں چلتے ہیں، لیکن سینکڑوں ایکٹروں پر پھیلے سرکاری تعلیمی ادارے فنڈز کی کمی کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔ چھوٹی سی فیکٹری، کارخانہ، ائر لائن، یا کوئی بھی ادارہ اپنے مالک کے لئے دھڑا دھڑ نوٹ کماتا ہے، لیکن سرکاری ادارے سفید ہاتھی بن کر قومی خزانے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں جواب دہی کا کوئی نظام نہیں ہے۔ یہاں سیاسی مداخلت اور سفارشی بھرتیوں کا رواج ہے۔ یہاں بہت سے ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں لیتے ہیں اور اس کے بعد پنشنیں بھی۔ میڈیکل اور سفر کے نام پر جھوٹی سچی مراعات بھی انہیں حاصل رہتی ہیں۔ ہڑتالیں اور یونین بازی بھی چلتی ہے۔ بیشتر سرکاری اداروں کی مثال اس گائے جیسی ہے جو چارہ تو خوب کھاتی ہے، لیکن دودھ کا قطرہ تک نہیں دیتی۔ پھر مالک اسے کسی قصاب کے حوالے کرنے میں بھی عافیت سمجھتا ہے تاکہ اس کے چارے اور خدمت سے تو نجات ملے۔
اب یقیناً عارف حبیب کنسورشیم پی آئی اے کو منافع بخش بنائے گا۔ کسی اچھے منتظم کا بندوبست کرے گا اور اس کی کارکردگی پر نگاہ رکھے گا۔ غیر ضروری عملے اور ملازمین سے نجات حاصل کرے گا۔ جن ملازمین کو تنخواہ دے گا، ان سے کارکردگی کا حساب لے گا۔ کسی کو گھر بیٹھے تنخواہ دے گا نا مراعات۔ کروڑوں روپے کے مفت ٹکٹ جاری کرے گانا کسی اعلیٰ افسر یا شخصیت کے لئے طیارے کی طے شدہ پرواز کو گھنٹوں روکے گا۔ چند مہینوں میں خسارے کا شکار پی آئی اے منافع بخش ہو جائے گا۔ خیال آتا ہے کہ کاش یہ سارا اہتمام حکومتی انتظام کاری میں چلنے والا پی آئی اے ہی کر لیتا۔ معلوم نہیں کیوں جب سرکاری خزانے سے رقم خرچ ہوتی ہے تو ہمارا رویہ مال مفت، دل بے رحم، جیسا ہو جاتا ہے۔
