بے اختیار ذمہ داری

ایک گاؤں میں ایک شخص تھا جو ہر شادی میں بن بلائے مہمان بن کے جاتا تھا۔ مہمان بننا تو چھوڑ وہاں انتظامیہ میں شامل ہو کر خاص کر کھانا کھانے کی جگہ پے اور حکم چلاتا رہتا تھا۔
ایک دفعہ ایک شادی کے گھر والے جب اس سے بہت تنگ آئے دو چار بندوں نے پکڑ کر باہر نکالا۔ جاتے جاتے بھی بولے : ٹھیک ہے چلنے کو تو چلتا ہوں لیکن دیکھیں اس میز پر گوشت کم ہے۔ ان کے لیے گوشت لائیں۔
میں نے بھی اپنے گزشتہ کسی تحریر میں دل برداشتہ ہونے کی بات کی تھی۔ مگر پھر بھی اس شخص کی طرح کہتا ہوں کہ:
انسان خطا کا پتلا ہے۔ اور اگر کوئی خطا مذہبی نوعیت کی ہو تو اس سے توبہ کرنے سے نہ صرف معافی ملتی ہے بلکہ روحانی ترقی بھی ہوتی ہے۔ جس کی مثالوں کا بڑا ذخیرہ مذہبی تاریخوں، حکایتوں اور قصوں میں موجود ہے۔
خطا یا غلطی اس عمل کو کہا جاتا ہے۔ جو بندے سے غیر ارادی طور پر، نا سمجھی میں اور بغیر کسی نیت بد کے سرزد ہو جاتا ہے، اور نتیجتاً کوئی نقصان یا تخریب لائے۔ تاہم اگر یہی عمل مکمل ارادے کے ساتھ، جان بوجھ کے نیت بد کے ساتھ کیا جائے تو پھر یہ گناہ اور جرم ہوتا ہے۔
پاکستان جو ابھی تک نیم جاگیر دارانہ اور نیم سرمایہ دارانہ سماج کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ دونوں نظاموں کے سماج، سوچ، فکر اخلاق اور اقدار وغیرہ کی اپنی اپنی مخصوص اور مختلف ضروریات ہوتی ہیں۔ جس طرح ان نظاموں کے مابین ایک جدلیاتی تضاد و تبدل کا عمل جاری رہتا ہے اسی طرح ان کے پیروکاروں کے رویوں، سوچ و فکر اور علم و دانش میں تضاد اور تبدیلی جاری رہتی ہے۔ بلکہ یہ تضاد و تبدیلی ایک دوسرے سے متصادم بھی ہوتی ہے۔ ان حالات میں دونوں نظاموں کے پیروکاروں کے مابین اختلافات لازمی امر ہے۔
ان ہی اختلافات اور عدم ادراک و نیز مفادات کی جنگ نے کسی کو سولی پر چڑھایا ہے تو کسی کو زہر کا جام پلایا ہے۔ کسی کو آگ میں ڈالا ہے تو کسی کو خونخوار شیروں کے سامنے ڈالا ہے۔ بادشاہتیں اور تاج و تخت گرائے ہیں اور دو عالمی جنگوں کی سبب بن چکی ہیں۔ اور آگے اللہ خیر کرے۔
بادشاہ، شہزادے اور دوسرے صاحب ثروت لوگ کے صلاح کاروں اور مشیروں کی ایک مشاورتی مجلس ہوتی ہے۔ جو درحقیقت بادشاہوں، شہزادوں وغیرہ کی نازک مزاجی، لاڈلے پن، گھمنڈ اور نرگسیت کی وجہ سے یہ مجلس مشاورت کی بجائے خوشامدی ٹولا بن جاتا ہے۔
شہنشائیت ہو کہ آمریت یا جمہوریت ہو۔ ان کی بھی کسی نہ کسی شکل میں ایک مشاورتی مجلس ضرور ہوتی ہے۔ جس میں دانا، ہوشیار اور تکنیکی لوگ شامل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ملک، عوام اور ملک کے نظام اور بنیادی نظریات کے تحفظ اور ترقی کے لیے اور ہر قسم کے نقصانات اور خطروں سے بچانے کے مشورے دیتے ہیں۔ اور ایسے امور جو نقصان دہ ہوتے ہیں اس سے بچنے کی صلاح بھی دیتے ہیں۔
جمہوری ممالک میں سیاسی پارٹیاں مستقبل کی متبادل یا آنے والی حکومت تصور کی جاتی ہیں۔ ان کے صدر یا چیئرمین، ایگزیکٹیو کمیٹی، مرکزی کمیٹی اور تنظیم کی مثال حکومتی کابینہ اور اس کے دیگر اداروں کی ہوتی ہے۔ اور ان کی تقریباً ذمہ داریاں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جو ایک حکومتی کابینہ اور اداروں کی ہوتی ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے بعض حکومتوں کی طرح اکثر سیاسی جماعتوں میں بھی ایسے انتخاب اور تقرریاں اے ٹی ایم کی خصوصیات کے حامل بندوں، کلاشنکوف، ڈنڈا برداروں کو اور خوشامد اور چمچہ گیری کی بنیاد پر دی جاتی ہیں اور ان کے لیے راہیں بنائی جاتی ہیں۔
پارٹی کے بانی، بنیادی، دانا، پرانے اور نظریاتی ساتھیوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر اول تو اتنا پیچھے دھکیلے جاتے ہیں کہ نظروں سے ہی اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کہیں نظر بھی آئیں تو پچھلی صفوں یا کسی کونے میں بیٹھے رہتے ہیں۔ پھر بھی ان کو پارٹی، اس کے اہداف اور نظریات سے اتنی محبت ہوتی ہے کہ جب بھی پارٹی یا لیڈران پر سخت وقت آتا ہے۔ تو مراعات یافتہ ٹولے، جو عہدوں، عزت اور دیگر مفادات کی بنیاد پر ان کی دفاع کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ مگر یہ بچارے تو نہ کچھ جانتے ہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی نہ برے وقت کے ساتھی ہوتے ہیں تو سائیڈ ہو جاتے ہیں۔ تو پھر یہی آخری صفوں، کونوں میں پڑے نظریاتی ساتھی جو نہ تو پارٹی کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی لیڈر شپ کی بے عزتی، میدان میں اتر جاتے ہیں اور پرائی ذمہ داری سروں پر لے لیتے ہیں۔
آج کل تمام تر لڑائی، جھگڑے، اختلافات، دوستی اور دشمنیاں بل واسطہ یا بلا واسطہ سوشل میڈیا پر ہو رہی ہیں۔ جو بڑی اہمیت کا حامل اور موثر ہے۔ بعض اوقات کسی سیاسی پارٹی کی پالیسی، عمل اور یا اس کے لیڈر سے کوئی خطا یا غلطی ہو جاتی ہے۔ تو جہاں سے توقع ہوتی ہے وہاں سے کچھ ہوتا ہی نہیں۔ تو وہی کونوں میں پڑے ساتھی محبت، اخلاص اور پارٹی کی احساس ملکیت کی بنیاد پر میدان میں کود پڑتے ہیں۔ اور اپنی بساط کے مطابق ایسا دفاع کرنے لگتے ہیں کہ لیڈر شپ اور معذرت کے ساتھ خوشامدی اور چمچے بھی حیران رہ جاتے ہیں۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ بہت زیادہ جذباتی ہو جاتا ہے یا کسی معاملہ کو ذاتی طور پر لے لیتا ہے تو اس کی عقل آگر چلی نہیں جاتی تو اس پر پردہ تو ضرور آ پڑتا ہے۔ اور یہ دوست اس بات کو سمجھنے کے باوجود جب دفاع پر آ جاتے ہیں تو انتہاء اور مبالغہ آرائی کی حدیں پار کر دیتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خطا کا دفاع کر رہے ہیں یا گناہ اور جرم کا۔
اگر یہ خطا کا دفاع کرتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ یہ بات بلکہ حقیقت کسی نہ کسی طریقے سے ان کو بتا دیں کہ غلطی تسلیم کرنے میں عظمت اور مصلحت ہے اور یہی حقیقی دفاع ہے۔ اور اگر وہ خطا نہیں گناہ ہے۔ تو دفاع کرنے کی بجائے توبہ کا مشورہ دیں۔ اگر ایسا نہ ہو یہ بد عمل جاری رہے گا جس کا نتیجہ اور جواب بھی لازما ”برا ہی آئے گا۔ اور پھر یہ نظریاتی ساتھی اس شخص کی طرح بولیں گے :
چلنے کو تو چلتا ہوں لیکن دیکھیں اس میز پر گوشت کم ہے۔ ان کے لیے گوشت لائیں۔
