تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر 32

تب ایک لمحے میں جانے کیا ہوا۔ اس نے پھرتی سے کیتلی اٹھائی، اس میں پانی ڈالا اور چولہے پر رکھتے ہوئے بولی۔
” آپ آرام کیجئے میں چائے لے کر آتی ہوں، حکمران طبقہ ہمیشہ اپنی رعایا کا خیال رکھتا چلا آیا ہے۔“
اس نے دیکھا اس کی پیشانی کی رگیں ایک دم ابھر آئی تھیں۔ بغیر کچھ کہے وہ واپس چلا گیا۔
اس نے چائے بنائی، برتنوں کو ٹرے میں سجایا اور اس کے کمرے میں آ گئی۔ چھوٹی تپائی پر برتن رکھے۔ وہ آنکھیں بند کیے نیم دراز لیٹا تھا۔ اس نے برتنوں کو قصداً ایک دوسرے سے ٹکرایا اور آہستگی سے بنگلا میں پوچھا کہ وہ کتنی چینی پیتا ہے؟ اس نے آنکھیں کھولیں، اسے دیکھا اور بولا۔
” ڈیڑھ اور دودھ کم۔“
”اے اللہ! تو نے اسے اتنی خوبصورت آنکھیں بھلا کا ہے کو دیں؟“
اس نے تپائی آگے بڑھائی اور جب وہ باہر آنے کے لئے دروازے کے پاس آئی، اس نے اونچی آواز میں کہا تھا۔
” اطمینان سے پئیں میں نے اس میں زہر نہیں ملایا۔“
اور چائے پیتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا۔
” ہوں، تو رعایا کی خدمت ہو رہی ہے۔“
اس کی یہ سوچ بہت طنزیہ تھی پر یہ بنگلا کتنی اچھی طرح بول رہی تھی، لب و لہجہ اجنبی نہیں معلوم ہو رہا تھا۔
اس نے جب چاول ابال لئے۔ تب کہیں وہ دونوں گھر آئے۔
” میں تو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ تم لوگوں نے وہاں ماچھ کی دکان ہی لگا لی ہے۔“
”ارے سومی آپا! پیدل گئے تھے، دیر تو ہونی ہی تھی۔“
بنگالی کھانے پکانے کا اسے کوئی تجربہ نہ تھا۔ مچھلی اس نے اپنے گھر کے طریقے سے پکائی۔ دال پتلی پکا کر بھگار ڈالا۔ اسی دوران فخر آ گیا اور آتے ہی اس نے خبر دی کہ چھاترو لیگ اور سٹوڈنٹس یونین کے درمیان جھگڑا ہو گیا ہے، خوب سرپھٹول ہوئی ہے۔ چاقو چھریاں چلی ہیں اور اب ای پی آر کے دستے کیمپس میں گشت کر رہے ہیں۔
”اے اللہ! تیرا ہزار شکر ہے۔“ اس نے اپنے دل میں چپکے سے کہا۔
”یہ چھاترو لیگ اور سٹوڈنٹس یونین خوب خوب آپس میں لڑیں مریں، انہوں نے قیامت مچا رکھی ہے۔ وطن دشمن سرگرمیاں ان کی زندگی بن گئی ہیں۔“
اس کے احساسات میں تلخی ہی تلخی تھی۔
کھانے کی میز، جب انہوں نے مل کر ٹھیک کر لی تو بینو اسے بلانے چلا گیا۔ اسے قطعی امید نہ تھی پر وہ آ گیا اور میز کے ایک طرف بیٹھ کر خاموشی سے بھات کھانے لگا۔
وہ تینوں بھائی زوروشور سے باتیں کر رہے تھے۔
فخر بولا۔
” اس مطیع گروپ کا خون کچھ زیادہ ہی ابل رہا تھا۔ چلو اچھا ہوا! کچھ خارج ہو جانے سے ٹھیک ہو جائے گا۔“
پر اس کی سوچ میں بہت دکھ تھا۔
”یہ نادان ہیں اور آپس میں ہی لڑ لڑ کر مر رہے ہیں، قوم جب تک متحد اور مضبوط نہ ہو کبھی سوارج بھی ملا ہے؟“
اور پھر ان کی گفتگو کا رخ مختلف ہالوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے ناٹکوں کی طرف منتقل ہو گیا۔
بلبل نے کہا۔
” کاش سومی آپا! آپ نے شلپی بھیا کی پارٹی کا ناٹک دیکھا ہوتا!“
”کیا کرنا تھا دیکھ کر۔ سمجھی سمجھائی چیزوں میں کشش نہیں ہوا کرتی۔“
اس نے کسی قدر رکھائی سے کہا۔ دراصل وہ ان سے چھپا گئی تھی کہ اس نے وہ سارا پروگرام دیکھا تھا۔ اگلے دن جب بینو اسے خاص طور پر یہ بتانے کے لئے آیا تھا کہ انہوں نے اسے تلاش کرنے کے لئے کتنی تگ و دو کی اور یہ کہ وہ کہاں غائب ہو گئی تھی؟ اس نے شان سے ڈینگ ماری۔
”میں تو اسی وقت واپس آ گئی تھی۔ اتنی بدنظمی تھی وہاں پر۔“
اور یہ بات اس نے اب بھی کہہ دی تھی۔
وہ کھانا کھانے اور ان تینوں بھائیوں سے باتیں کرنے میں محو تھی۔ یوں اگر ایک بار بھی اس کی نظر اس پر پڑ جاتی جو بہت خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا تو یقیناً وہ اتنا سفید جھوٹ اتنا ڈٹ کر نہ بول پاتی۔
مچھلی کے کانٹے پلیٹ میں رکھتے وقت اس کے ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ پیدا ہوئی اور اس نے اک ذرا سی دیر کو نظریں اٹھا کر لڑکی کو دیکھا جس کے جوگیا کرتے میں چاندی کے بٹن جھلمل جھلمل کرتے تھے اور جو اس کے بھائیوں کے درمیان بیٹھی بھات کو جلدی جلدی کھانے میں مگن تھی۔
”وہاں بہت بد نظمی تھی اور یہ اسی وقت واپس آ گئی تھی۔“ وہ اپنی مسکراہٹ دبا گیا تھا۔
”سومی آپا، دراصل میڈیکل کالج کے واقعے سے دل برداشتہ ہیں۔“ بلبل فخر سے مخاطب تھا۔
”کچھ تفصیل بتاؤ اس واقعے کی۔“ فخر بولا۔
”بھئی! وہی بنگلا چُلبے والا قصہ ہے اور تفصیل یوں ہے کہ ڈھاکہ میڈیکل کالج کے استقبالیہ میں سال اول کی ایک طالبہ نے اپنی کلاس کی جانب سے شکریہ انگریزی میں ادا کرنا چاہا۔ جس پر بنگلا بولو بنگلا کا شور مچا۔ بے چاری لڑکی نم آنکھوں کے ساتھ سٹیج سے اتر آئی۔“
اس کے دل کو دھچکا لگا جب فخر نے کہا۔ ”حالات ہمیں سخت اقدام پر مجبور کر رہے ہیں۔ کیونکہ بائیس سال گزر جانے پر بھی ہماری زبان کو وہ مقام اور اہمیت نہ مل سکی جس کی یہ متقاضی ہے۔“
پر اس کے کچھ کہنے سے پیشتر ہی بلبل بول اٹھا۔ ”بنگلا سے اتنی محبت رکھنے کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ آپ اخلاق اور انسانیت کا دیوالیہ نکال دیں۔ جب آپ سارا سال انگریزی پڑھتے ہیں تو شکریہ کے دو بول اس زبان میں سن لینے میں کیا حرج ہے؟“ فخر! زبانیں کبھی جبراً ٹھونسی نہیں گئیں اور جب بھی ایسا ہوا وہ اپنی موت آپ مر گئیں۔ ”
” ہم تو یہ جانتے ہیں سومی آپا! یہ جبراً ٹھونسی جاتی ہیں اور مرنے کی بجائے خوب پھلتی پھولتی ہیں۔ آپ بتائیے کہ بنگلہ اور اُردو دونوں اس ملک کی قومی زبانیں ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اُردو جو اس حصے کے سکولوں کے لئے لازمی مضمون ہے، اُس حصے کے لئے بنگلہ نہیں؟ کہئیے جو پچھمی پاکستان میں ایک فیصد لوگ بھی اسے سمجھنا اور بولنا جانتے ہوں اور تو اور یہاں جو بہاری ہیں انہیں اس زبان سے شدید نفرت ہے۔ سالہا سال اکٹھے رہنے کے باوجود بھی وہ اسے نہیں بولتے۔ کوئی بات ہو یہ سن لیجیے! یہ لوگ ہندو، ان کی بھاشا ہندو، ان کا کلچر ہندو۔ محبت و اعتماد کے رشتے کیا ان بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں؟“
فخر نے تو بخیئے ادھیڑ ڈالے تھے اور فی الواقع وہ جو کچھ کہہ رہا تھا کسی حد تک درست تھا۔ اس نے اتفاق کیا اور بولی۔
” فخر! اُردو کی جڑیں بنگال میں بہت گہری ہیں۔ پوربو بنگال کے مسلمان بنگالی اُردو بولنا فخر سمجھتے تھے۔ اُردو کی ترویج میں اس خطے نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پر میں افسوس سے کہوں گی کہ بنگلہ سے اندھی محبت ہر اس چیز کا نام مٹائے دے رہی ہے جس کا ذرا سا بھی تعلق اُردو سے ہے۔ تمہی بتاؤ! اکیس فروری کو ہر سال جو توڑ پھوڑ ہوتی ہے کیا یہ کسی طرح بھی مستحسن ہے؟ کتنی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، کتنی توڑ پھوڑ ہوتی ہے، یہ تو اوچھے ہتھکنڈے ہیں۔“
بحث طوالت پکڑ گئی، وہ تو جانے کب کا اٹھ کر چلا گیا تھا۔ بلبل نے یہ کہتے ہوئے
”سومی آپا! یہ ملک بہت بد قسمت ہے۔“ ریڈیو کا سوئچ آن کر دیا تھا۔
بیلا خان گا رہی تھی۔ بیلا خان کا گیت کسی کے قدموں کی کھوج میں تھا اور اس کا ذہن اپنے ملک کے مستقبل کی کھوج میں۔
جاری ہے۔
