مارکسزم کی ازسر نو تشکیل (1)
میري مارکسی و کمیونسٹ سیاسی سوچ اور سیاسی شعور کی تربیت کا محور ہمیشہ سے مارکسزم کے اصول اور نکتہ نظر پہ رہا ہے اور میں آج بھی برملا سمجھتا ہوں کہ دنیا کے انسانوں کے سیاسی و سماجی مسائل کا حل صرف مارکسزم پر پختہ یقین رکھنے کمیونسٹ نظم و ضبط رکھنے والی کمیونسٹ پارٹیاں ہی نکال سکتی ہیں، مگر اس کے درمیان ایک غور طلب اور گھمبیر نکتہ یہ ہے کہ وہ کیا وجہ ہے کہ دنیا بھر کے عوام کی معاشی حالت اور سماجی بہتری کی دعوے دار کمیونسٹ فلسفیانہ دانش اور معاشی دانشور دنیا اور اپنے اپنے ملک کے عوام کو سیاسی و نظریاتی طور سے کمیونزم کے نظریئے سے اس طور لیس نہ کرسکے ہیں جو کہ کمیونسٹ پارٹی یا کمیونسٹ معاشی فکر کے نظریئے کو دنیا میں پھیلانے کی بنیادی ضرورت تھی اور دنیا کے عوام میں معاشی اور سماجی خوشحالی کا عملی اظہار کرکے عوام دشمن اور لوٹ کھسوٹ کے سرمایہ دارانہ نظام کی متبادل معیشیت دنیا کے عوام کو دینا تھی۔
یہ آج کی سرمایہ دارانہ ہولناکی، کساد بازاری اور انسانی حقوق کی پامالی کے دور کا اہم سوال ہے کہ کمیونسٹ دانش نے روس کے کمیونسٹ نکتہ نظر کے تحت آنے والے انقلاب کی جزئیات اور فلسفیانہ و معاشی فکر کے ان کمزور زاویوں پر کیوں غور نہیں کیا جو کمیونسٹ معیشیت کو آگے بڑھانے سے محروم رہے؟ کمیونسٹ نظریاتی دانش کمیونسٹ معیشیت کی ناکامی کے ان اہم اسباب کی گتھی روس کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد آخر اب تک کیوں نہ کھول سکی ہے ۔؟
تاریخی اعتبار سے 1898 میں روس کے مارکسی اور سوشلسٹ سوچ کے گروپس نے "سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی” کی بنیاد مل کر کیوں ڈالی اور لینن نے اس کے قیام میں کلیدی کردار کس سوچ کے تحت ادا کیا تھا۔؟یہ وہ اہم نکات ہیں جن پر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کمیونسٹ دانش کی بنیاد پر غور نہیں کیا گیا، اسی ضمن میں یہ بھی سوال ہے کہ 1903 میں پارٹی کی دوسری کانگریس کے موقع پر لینن نے زار شاہی کے اقتدار کو اکھاڑ پھینکنے کے لیئے سخت نظم و ضبط رکھنے والی”روسی کمیونسٹ پارٹی” ہی بنانے پر کیوں زور دیا جس کی وجہ سے اصلاح یا سمجھوتے پسند "منشویک” کہلائے جبکہ مارکسزم کے نکتہ نظر کو عوام میں عملی طور پر لے جانے والے اکثریتی”بالشویک”کہلائے جنہوں نے زمینی حقائق پر "روسی کمیونسٹ پارٹی” کے نظم و ضبط کے تحت روس میں 1917میں انقلاب برپا کر کے اقتدار پر قبضہ کیا۔
اس سوال اور گھمبیرتا کی گتھی کو سلجھانے کے لیئے ویسے تو سیاسی تاریخ کے مختلف دور اور مراحل زیر بحث لائے جا سکتے ہیں اور ان پر فلسفیانہ غور بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن میں آج کی دنیا میں جاری سیاسی ہلچل اور بطور خاص یورپ میں معاشی ابتری کے خلاف عوام کا سڑکوں پہ آجانے کو غیر اہم نہیں سمجھتا، اس میں کسی بھی طرح کے شک کی گنجائش نہیں ہے کہ دنیا کو خوش حالی و انسانی حقوق کے سرمایہ دارانہ خواب دکھانے والے دانشوروں کے تجزیے بھی زمینی حقائق کی روشنی میں زمین دروز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ بقول مارکسی دانشور رادھیکا ڈیسائی کے کہ "سرمایہ دارانہ معیشیت” دنیا کے عوام کو خوشحالی کے خواب دکھانے کے باوجود اور تمامتر سرمائے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی مطمئن نہیں کر پائی ہے ، جبکہ پروفیسر ڈیسائی کا یہ بھی تجزیہ ہے کہ دنیا سے جہاں سرمایہ دارانہ معیشیت اور طرز حکمرانی کو دنیا کے عوام نے ٹھکرایا ہے وہیں دوسری جانب تمامتر ترقی یافتہ ٹیکنالوجی رکھتے ہوئے بھی سرمایہ دارانہ معیشیت پوری دنیا میں زوال کا شکار ہوتی جارہی ہے، جس کے بعد کمیونسٹ نکتہ نظر کی پارٹیوں کے سامنے یہ سوال منہ کھولے کھڑا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کی دانش دنیا کے محکوم اور تنگ دست عوام کو اپنے نکتہ نظر پر قائل کرکے "مارکسی معیشیت” کے وہ کونسے ہتھیار استعمال کر پائے گی جس سے عوام اپنی سیاسی، معاشی اور سماجی آزادی کے بنیادی خواب پر مطمئن ہو سکیں گے۔
محترمہ ڈیسائی کے خیال میں مغرب معاشی طور سے زوال کی جانب جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے جبکہ چین پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر مستحکم دکھائی دیتا ہے، پروفیسر ڈیسائی کے خیال میں سامراجیت اور سوشلزم کے خدو خال واضح کرنے میں مارکس، گرامچی، اسمتھ اور کینز کا اپنا اپنا ایک نکتہ نظر رہا ہے مگر عالمی جنگ کے نتیجے میں دنیا نے فاشزم اور نئی جاگیرداری کے ساتھ روس کے معاشی ماڈل کو بھی دیکھا ہے جبکہ دوسری جانب دھوکہ دہی کے سبب ترقی یافتہ کہلائے جانے والے کلاسیکل سرمایہ دارانہ اقدامات کو دنیا کے عوام کی بھوک بڑھاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے، نتیجے کے طور پر پروفیسر صاحبہ کہتی ہیں کہ آج دنیا کی معاشی لوٹ کھسوٹ اور اپنی ہیجان خیزی پر طاقتور سرمایہ دارانہ دنیا کمیونسٹ فکر کو اتنی آسانی سے اپنے استحصالی معاشی نظام کا متبادل نہیں ہونے دے گی کہ جتنا آسان کمیونزم پر یقین رکھنے والے کر رہے ہیں۔
اکتوبر انقلاب کے بعد سوشلسٹ روس کی معاشی ساکھ کو قائم رکھنے والا یورپ اور لاطینی امریکہ میں کمیونسٹ انقلاب کی روشنی میں وجود میں آنے والا معاشی اتحاد روس کے سربراہ خروشیف کی قیادت میں "وارسا پیکٹ” کے نام پر جب جون 1991 میں کمزور پڑا یا ٹوٹ گیا تو روس کا سوشلسٹ انقلاب کا معاشی ڈھانچہ مستحکم نہ رہ سکا بلکہ اس وقت نہ اسے گورباچوف کا "پریسترائیکا” بچا پایا اور نہ "گلاسنوسٹ” روس کے معاشی ڈھانچے کو سہارا دے سکا، جس کے نتیجے میں انقلاب روس یا سوشلسٹ معاشی ڈھانچے کے ڈھے جانے کے بعد یورپ، امریکہ اور دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں دو طرح کے رجحانات نے جگہ بنائی۔ایک وہ رجحان تھا، جو روس کی ناکامی کو برملا "مارکسزم” کی ناکامی کہہ رہا تھا بلکہ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ دنیا سے "مارکسزم” کا وجود اور فلسفہ ہی ختم ہو چکا ہے جبکہ اس کے برعکس مارکسزم کے فلسفے یا فکر پر یقین رکھنے یا دفاع کرنے والوں کا ہمیشہ یہ استدلال رہا کہ روس کا انہدام دراصل اقتداری و انتظامی کمزوریوں کے ساتھ کمیونسٹ طرز معیشیت میں وقت اور حالات کے مطابق اصلاح نہ کرنے کی ناکامی ہے جس نے عوام میں سوشلسٹ خوشحالی دینے والی معیشیت کے خلاف منفی رجحان کو تقویت دی جبکہ مارکسزم کا نکتہ نظر اپنی جگہ اہم اور سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں بہتر معیشیت قائم رکھنے والا طرز معاشرت ہے۔
روس کے انہدام کے بعد امریکی سامراج اور یورپ کی سرمایہ داری نے کمیونزم کے نکتہ نظر کے خلاف سرمائے اور ریاستی طاقت کے ساتھ پروپیگنڈہ کرکے دو قسم کی سوشلسٹ سوچ کے دائرے بنانے کی کوشش کی جس میں سرمایہ دار ممالک اور بطور خاص امریکہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوا۔
روس کی کمیونسٹ معیشیت کے مقابلے میں امریکی سامراج نے یورپ کے اتحاد سے "مارکسزم” کے عظیم فلسفے کو کمزور کرنے کے لیئے از سر نو این جی آوز کا ایک سماجی اصلاحی پروگرام سرگرم کیا کہ جس میں کمیونسٹ فکر کے کمزور عناصر خود کو "مارکسسٹ” کہلوا کر دراصل ترقی پسندی سوچ اور کمیونسٹ فکر کو نقصان پہنچا کر سماجی فلاح کے امریکی فنڈیڈ پروگرام پر عمل کروا کر خود کو ترقی پسند بھی رکھنا چاہتے تھے یا ترقی پسند فکر کے پردے میں امریکی سرمائے کی مدد کے الزام سے بچنا چاہتے تھے۔یہ کام کمزور کمیونسٹ فکر کے افراد نے امریکی یا سرمایہ دارانہ فنڈ کی بنیاد پر دھڑلے سے کیا اور اب تک کسی نہ کسی شکل میں کر رہے ہیں۔
اس پورے عمل کے دوران مارکسسٹ اور کمیونسٹ کے فرق کو نہ سمجھا گیا اور نہ اس پر توجہ دی گئی، سادہ سی بات ہے کہ مارکس کی کتابیں اور فلسفہ پڑھنے والا کوئی بھی خود کو مارکسسٹ کہہ سکتا ہے اور یہ کسی حد تک درست بھی ہے۔ مارکسسٹ تو کوئی مذھبی بھی ہو سکتا ہے۔
عراق کے مذھبی عالم باقر الصدر نے تو کارل مارکس کی قدر زائد پر ہی ایچ ڈی کی اور اس مقالے کو "اقتصادنا” کے نام سے چھپوایا بھی ، جو بہت اہم کتاب جانی گئی ہے۔
اصل مسئلہ مارکس کے فلسفے اور فکر کو عملی شکل میں ڈھالنے کا ہے، جو صرف نظم و ضبط کا کمیونسٹ یا لیننسٹ ہی کرسکتا ہے کیونکہ سماج اور اپنی تنظیم کو جواب دہ "کمیونسٹ” ہی ہوتا ہے۔ کمیونسٹ کا احتساب سماج کا ہر فرد کرسکتا ہے ۔سوال اٹھا سکتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی میں اس کے عمل کی شکایت کر سکتا ہے جبکہ مارکسسٹ اپنے آپ کو ان بندھنوں سے آزاد سمجھتا ہے۔ لہذا مارکسسٹ استحصال بھی کر سکتا ہے اور اپنے ذاتی یا کاروباری مفاد میں جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔
جبکہ کمیونسٹ سماج کے ہر فورم پر خود کو ہمہ وقت احتساب کے لیئے پیش ہونے کو تیار ہوتا ہے۔
دنیا میں زیادہ تر مختلف سماجی فیلڈ میں کام کرنے والی سرمایہ دارانہ مفادات کی این جی آوز اور ادارے چلانے والے نہ صرف مکروہ فریب اپنے دامن میں رکھتے ہیں بلکہ جب چاہتے ہیں خود کو مارکسسٹ بتا کر دنیا کی محنت کی قدر کے عظیم مارکسزم کے نظریئے کو بدنام کرتے ہیں اور اپنے فائدے کے لیئے کمیونسٹ نظریئے کو استعمال کرتے ہیں۔
یہی وہ اہم نکتہ ہے جس کے دباؤ میں آکر دنیا بھر کی عمومی اور یورپ میں خصوصی طور پر کمیونسٹ پارٹیوں نے اپنے آپ کو”کمیونسٹ نظم و ضبط” میں رکھنے کے بجائے اس کا حل سوشل ڈیموکریٹ کے آسان اور خوف زدہ رکھنے والی سیاست میں ڈھونڈا، جس میں کمیونسٹ دانش سے مجرمانہ طور پر مارکسزم کے معاشی نکتہ نظر اور اس کی نظریاتی اساس ہاتھ سے نکل کر سرمایہ دارانہ نظام کے فائدے اور پروپیگنڈے کا آسان ہدف بن گئی، جس کا لازمی نقصان یہ ہوا کہ پورا یورپ کمیونسٹ کیڈر پارٹی کے نظم و ضبط سے محروم ہوکر عام سیاست کی نذر ہوکر نظریاتی، سیاسی اور سماجی سیاست میں بے معنی ہوگیا۔

