بلاگ

فزکس اور میڈیسن کے نوبل پرائز دو ہزار چھبیس

ZA Zulfi
قومیت بھی الگ، مذہب بھی الگ، رنگ و نسل سب جدا سوچ بھی الگ اور سوچوں کا دھارا بھی الگ سب کچھ الگ لیکن ایک چیز مشترک، اور وہ ہے زندگی کا نصب العین، سائنسی انداز فکر اور سائنسی سوچ اور سائنسی انداز سے کام کرنے کا طریقہ۔ اس فکر اور سوچ سے پھوٹنے والے علم کے چشمے اور ان سے انسانیت کی خدمت کا عزم۔

امریکی ماہر حیاتیات کارل ڈیزیرود اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے پیٹر ہیگمون اور جارج نیگل کو لائٹ گیٹڈ آئن چینل کی دریافت پراور ایک نئی سائنسی فیلڈ یعنی اپٹو جینیٹکس کی بنیاد رکھنے پر فزیالوجی اور میڈیسن کے شعبوں میں اور امریکی ماہر طبیعیات کارل حیزیل کو نیوٹرینیز پر تحقیق اور ان سے متعلق جاننے کے لئے انتہائی انوکھا طریقہ دریافت کرنے پر نوبل پرائز کا انعام دیا گیا ہے۔

دنیائے نباتات کا سب سے چھوٹا پودا، فطرت کی ایک عجیب تخلیق، کائی یا الجی خاندان سے تعلق رکھنے والا اور یک خلوی سبزینہ والا سب سے چھوٹا اور یعنی باریک بین سے بھی اوجھل کلے میڈوموناس۔

ماہرین نباتات کے شعبے مائکرو بیالوجسٹ کے مطابق یہ پودا، جسے پودا پکارنے سے دوسرے پودے شرماتے ہیں، یہ اپنی خوراک آپ بنانے والے پودوں میں سب سے پہلے نمبر پہ آتے ہیں۔ پانی کے اندر اس کی پوری زندگی ہے۔ ان کے ننھے جسم میں سب سے عجیب عضو اس کا آئی سپاٹ ہے۔ یہ آئی سپاٹ آنکھ کا کام کرتا ہے۔ جب روشنی اس پر پڑتی ہے تو یہ محسوس کرتا ہے۔ یعنی لائٹ سینسیٹیو ہے۔ یہ کوئی مکمل آنکھ نہیں لیکن اس ننھے کے جسم میں یہ آنکھ کا کام بخوبی نبھاتا ہے۔

اس پر تحقیق کرنے والوں نے یہ پتہ لگایا کہ اس آئی سپاٹ کو روشنی کے لئے سینسیٹیو بنانے میں ایک پروٹین کا کردار ہے۔ اصل کہانی یہاں سے آگے شروع ہوتی ہے۔ مذکورہ پروٹین کو جب چوہے کے دماغ میں ڈالا گیا تو چوہے کے اندر ایک خوف پیدا ہو گیا۔ نتیجہ یہ تھا کہ اس پروٹین نے چوہے کے دماغ کے اندر ان نیورانز کو چھیڑا جو خوف پیدا کرنے کے ذمہ دار تھے۔

انسانی دماغ سے اس کا کیا تعلق ہے؟ اور اسے انسانی فلاح کے لئے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

انسان کے دماغ میں اربوں نیوران موجود ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہر عمل اور ردعمل کے لئے نیورانوں کے الگ گروپ متعین ہوتے ہیں۔ یعنی خوشی اور غم کے جذبات کے لئے الگ نیوران، پریشانیوں کے دوران الگ نیورانز، بھوک لگنے پر الگ نیوران وغیرہ وغیرہ۔ سائنسدان یہ تو جانتے تھے کہ الگ الگ کاموں کے لئے ہمارے دماغ کے الگ الگ پرزے کام کرتے ہیں لیکن ان اربوًں پرزوں میں کون سا پرزہ کس کام کے لئے مختص ہے اسے جاننے کے لئے اب تک سائنس کمیونٹی کا علم انتہائی محدود تھا۔ کیونکہ دماغ جیسی پیچیدہ مشین اس کے افعال اب تک معمہ ہے۔ سائنسدان اب تک اس بات سے بے خبر تھے کہ کون سا نیوران کس کام کے لئے مختص ہے۔ مذکورہ تحقیق میں کامیابی سے یہ کام اب نیورو سائنس کے دسترس میں آ گیا ہے کہ وہ اب کلے میڈوموناس کے آئی سپاٹ میں موجود لائٹ سینسیٹیو پروٹین انسانی دماغ میں مخصوص نیورانز کے اندر انجیکٹ کریں گے اور روشنی کا ان نیورانز پر اثر دیکھیں گے۔

اپ ماہرین دماغ آسانی سے مستقبل میں یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ایک مخصوص کام کو سرانجام دینے کے لئے دماغ کے کس حصے میں جنبش کی ضرورت ہے۔ مثلاً جب ہمیں بھوک لگتی ہے تو اس کا احساس دلانے کے لئے کون سے نیوران سرگرم ہوتے ہیں، جب ہمیں جسم کے کسی حصے میں درد محسوس ہو تو کون سے نیوران ایکٹیو ہو جاتے ہیں تاکہ اس درد کو کم کرنے کے لئے ان کو ٹارگٹ کیا جائے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ اسی طرح مختلف بیماریاں جن کا مستقل علاج اب تک دریافت نہیں ہوا ہے جیسا کہ الزائمر، پارکنسن، مستقل طور پر رہنے والا خوف، ڈپریشن اور اس کے علاوہ بہت سی جسمانی اور دماغی بیماریاں، کا مستقل علاج مستقبل میں ممکن ہو سکے گا۔

فزکس میں اس سال نوبل انعام ایک بیلجیئم امریکن ماہر طبیعیات کے حصے میں آیا ہے اس کی دریافت بھی بہت دلچسپ ہے۔

نیوٹرینوز بغیر کمیت اور بغیر چارج والے انتہائی چھوٹے ذرات ہیں جو کائنات میں ہر جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ جو عام انسانی آنکھ سے تو کیا کسی باریک بین سے بھی مخفی ہیں۔ مخفی کیوں نہ ہوں جب یہ اربوں کی تعداد میں کسی مادے میں سے گزرتے ہیں تب بھی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ ان ذرات کی موجودگی کے بارے میں انیس سو تیس کے عشرے میں ایک سائنسدان وولف گینگ پاولی نے پیش گوئی کی تھی۔ اس وقت جب میں یہ سطور لکھنے میں مصروف ہوں میرے جسم کے اندر سے اربوں کی تعداد میں یہ ذرات گزر رہے ہیں۔ ان ذرات کو بھوت ذرات یا گھوسٹ پارٹیکلز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ذرات پیدا کہاں ہوتے ہیں؟ یہ ذرات کائنات کے ہر اس گوشے میں پیدا ہوتے ہیں جہاں بلیک ہول بنتے ہیں، جہاں ستارے آپس میں ٹکراتے ہیں بوڑھے ستارے پھٹتے ہیں اور نئے ستارے وجود میں آتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جو نیوٹرینوز آج ہم سے آ کے ٹکراتے ہیں ان کا سفر شاید لاکھوں کروڑوں سال پہلے کائنات کے کسی کونے سے شروع ہوا ہو۔ لہذا یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان کی حالت دیکھ کر ہم ہزاروں سال پہلے کی کائناتی حالت کا پتہ لگا سکتے ہیں یعنی کائنات کے کسی مخفی گوشے میں کیا حالات چل رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس سوال کا جواب بھی ڈھونڈنے میں مدد ملے کہ ہمارے سیارے زمین سے پرے کسی اور جگہ زندگی کے آثار ہیں کہ نہیں؟

نیوٹرینوز پر حالیہ یہ تحقیق بھی بہت دلچسپ ہے۔ فرانسس ہیلزن کو ان بھوت ذرات پر تحقیق کے لئے ایک انوکھا طریقہ سوجھا۔ اس نے ایسی دوربین کا سوچا جو ان ذرات کا پتہ لگانے میں مدد دے۔ اس کے لئے انھوں نے قطب شمالی میں برف کی تہوں کے اندر بہت گہرائی میں ایسی دوربینیں نصب کیں جنہیں آئس کیوب ٹیلی سکوپ کا نام دیا۔ نیوٹینوز جو اربوں کی کی تعداد میں برف کے اندر سے گزرتے ہیں ان میں سے بہت کم پانی کے ذرات سے ٹکراتے ہیں اور ایک روشنی پیدا ہوتی۔ اس روشنی کی ماہیت سے ان نیوٹرینوز کی ہیئت کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ جس سے کائنات کے سر بستہ رازوں سے پردہ فاش ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق نے تحقیق کے لئے نیوٹرینوز آسٹرونومی کے نام سے علم کی ایک نئی کھڑکی متعارف ہوئی ہے۔

مختصر یہ کہ اب ہمیں کائنات کے مطالعے کے لئے آسمان کی طرف دیکھنے کی بجائے نیوٹرینوز پر تحقیق کرنی ہو گی۔ اس طرح آسٹرونومی میں ایک نئی شاخ نیوٹرینو آسٹرونومی بھی وجود میں آئی۔

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
[wpdevart_facebook_comment facebook_app_id="1649778078606495" curent_url="https://humsub.com.pk/n/61050/2026/10/22/za-zulfi " order_type="social" title_text="Facebook Comments" title_text_color="#000000" title_text_font_size="20" title_text_font_famely="Arial" title_text_position="center" width="100%" bg_color="#000000" animation_effect="none" count_of_comments="10" ]
Back to top button
✕
HumSub

FREE
VIEW