میرے مطابق

پاکستان کی بقا اور وی آئی پی ازم کا جنازہ

rafiq ullah paracha

پاکستان کی سیاسی تاریخ ”سادگی مہم“ کے اشتہارات اور کھوکھلے دعوؤں سے بھری پڑی ہے، کبھی کوئی وزیراعظم اپنی دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا اعلان کر کے سرخیوں میں آتا ہے، تو کبھی وزراء کے پٹرول میں چند لیٹر کی علامتی کٹوتی کا کہہ کر عوام کو بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قوم اب ان بچکانہ اقدامات سے اکتا چکی ہے۔ جب ملک کے قرضے اربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہوں اور عام آدمی بجلی کے ایک بل کے لیے اپنی جمع پونجی بیچ رہا ہو، تو ان جیسے اقدامات مذاق معلوم ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اب کسی ”مرہم“ کی نہیں، بلکہ ایک بڑے آپریشن اور جینوئن انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اصلی تبدیلی تب آئے گی جب ریاست یہ دو ٹوک فیصلہ کرے گی کہ آئندہ سے ”سرکاری پٹرول“ نام کی کوئی شے وجود نہیں رکھے گی۔ چاہے وہ وزیراعظم ہو، وفاقی وزیر، جج، بیوروکریٹ ہو یا سول و ملٹری افسر، کسی کو بھی ایک لیٹر پٹرول مفت نہیں ملنے دیا جائے گا۔ یہ مد ہی سرکاری بجٹ سے مکمل طور پر نکال دینی چاہیے۔

سوچیے، جب ایک عام شہری 322 روپے لیٹر پٹرول خرید کر اپنی موٹر سائیکل چلاتا ہے، تو صاحبِ اقتدار کو عوام کے ٹیکس پر مفت سفر کرنے کا کیا اخلاقی جواز ہے؟ اسی طرح سرکاری گاڑیوں کا یہ وسیع و عریض پروٹوکول کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ جس افسر یا سیاستدان کے پاس اپنی گاڑی ہے وہ اسے استعمال کرے، ورنہ یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے کہ وہ دفتر کیسے پہنچتا ہے، دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک، جیسے سویڈن اور ڈنمارک میں وزراء سائیکلوں یا پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہیں، تو پاکستان جیسے مقروض ملک میں پروٹوکول کے یہ شاہانہ قافلے کیوں؟

بجلی کے مفت یونٹس اس قومی نا انصافی کا خاتمہ بھی ہو جانا چاہیے، واپڈا ملازمین سے لے کر اشرافیہ تک، مفت بجلی کی سہولت ایک ایسا بوجھ ہے جس نے ملک کی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، کیا شوگر مل کے ملازم کو چینی کی بوریاں مفت ملتی ہیں؟ کیا فلور مل میں کام کرنے والوں کو آٹا مفت ملتا ہے؟ اگر نجی شعبے میں ایسا کوئی تصور نہیں، تو پھر سرکاری محکموں میں یہ بندر بانٹ (بے انصاف تقسیم) کیوں؟ ایک سادہ اور دو ٹوک پالیسی وقت کی ضرورت ہے، بجلی کا ایک یونٹ بھی کسی کو مفت نہیں ملنا چاہیے جو جتنا استعمال کرے، اتنا اپنی جیب سے ادا کرے۔ جب تک سرکاری صاحب جی کے ائر کنڈیشنر کی ٹھنڈک اس کی اپنی جیب پر بھاری نہیں پڑے گی، اسے اس غریب کا دکھ کبھی سمجھ نہیں آئے گا جو پنکھا چلانے سے پہلے بھی سو بار سوچتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ خدمت ہے یا منافع بخش کاروبار؟ ایک اور انقلابی قدم جو ہماری سیاست کا رخ بدل سکتا ہے، وہ اراکینِ پارلیمنٹ، وزراء اور مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کا مکمل خاتمہ ہے۔ سیاست ایک عوامی خدمت کا نام ہے، یہ کوئی روزگار اسکیم نہیں ہے، اگر کوئی شخص کروڑوں روپے لگا کر الیکشن لڑنے کی سکت رکھتا ہے، تو وہ اپنا ذاتی خرچ بھی اٹھا سکتا ہے، اگر کوئی سیاستدان اپنی زندگی کا خرچ نہیں اٹھا سکتا، تو اسے الیکشن لڑنے کی دعوت کسی نے نہیں دی۔ اس کا خرچ اس کی پارٹی اٹھائے، اور اگر کسی طور پر کوئی شخص پارلیمان میں پہنچ جائے، تو اسے بیت المال یا زکوٰۃ فنڈ سے ایک عام شہری کے برابر گزارہ الاؤنس دے دیا جائے، مگر اسے ’شاہی مراعات‘ کا لائسنس نہ دیا جائے۔ پارلیمنٹ کے ایک ایک سیشن پر کروڑوں روپے کے اخراجات اب یہ ملک برداشت نہیں کر سکتا۔

ایک طرف ہم آئی ایم ایف ( آئی ایم ایف ) سے ایک ایک ارب ڈالر کے لیے کڑی شرائط مانتے ہیں، اور دوسری طرف صرف مراعات کی مد میں اس سے کہیں زیادہ رقم ضائع کر دیتے ہیں، برطانیہ میں اراکینِ پارلیمنٹ اپنی رہائش اور سفر کے اخراجات کا ایک ایک پائی کا حساب دیتے ہیں، جبکہ یہاں ”سادگی“ کے نام پر صرف فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف صاحب کو اگر واقعی کچھ جینوئن کر کے دکھانا ہے، تو اب ان چھوٹے موٹے ڈراموں سے کام نہیں چلے گا، اب نظام بدلنے والے فیصلے کرنے ہوں گے، اسی طرح تحریک انصاف کے پاس بھی ایک سنہری موقع ہے، وہ اپنے صوبے (خیبر پختونخوا) کی حد تک یہ انقلابی اصلاحات نافذ کر دے۔ بیوروکریسی اور وزراء کی شاہ خرچیاں ختم کر کے ایک مثال قائم کرے جو باقی ملک کے لیے مشعلِ راہ بن جائے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان اب لفاظی کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہمیں ایک ایسی ریاست بننا ہو گا جہاں قانون اور سہولت سب کے لیے برابر ہو، جب تک حکمران طبقہ عام آدمی جیسی زندگی نہیں گزارے گا، پاکستان کی تقدیر نہیں بدلے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ مراعات یافتہ طبقہ قربانی دے، کیونکہ عوام اب مزید قربانی دینے کی سکت کھو چکے ہیں۔

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
[wpdevart_facebook_comment facebook_app_id="1649778078606495" curent_url="https://humsub.com.pk/n/36882/2026/03/10/rafiq-ullah-paracha " order_type="social" title_text="Facebook Comments" title_text_color="#000000" title_text_font_size="20" title_text_font_famely="Arial" title_text_position="center" width="100%" bg_color="#000000" animation_effect="none" count_of_comments="10" ]

Related Articles

Back to top button
✕
HumSub

FREE
VIEW