زندگی بعد از مرگ

یہ جملہ معترضہ بھی ہے اور اصول زندگی بھی۔ ہم روانہ بہت ساری زندگیاں دیکھتے بھی ہیں اور جیتے بھی لیکن جاویدانی بہت کم دیکھی اور سنی ہے۔ جن کو جاویدانی یا جنہوں نے جاویدانی کمائی، کیا وجہ ہے کہ وہی آج تک ہر اک کی گفتگو میں زندہ ہیں۔ ہر محفل و مجلس میں ان کے ذکر کی خوشبو مہکتی ہے۔ اس نقطہ نظر کے کئی جوابات ہو سکتے ہیں اور کچھ قاری تو اس نقطہ نظر کو سرے سے قبول بھی نہیں کریں گے اور فوراً تعصب کہہ کر رد کر دیں گے۔ ان کو بھی رد کا حق حاصل ہے لیکن ان کو چاہیے کہ وہ رد دلیل اور منطق کے ساتھ کریں۔ چلیں چلتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔
زندگی یا جاویدانی بعد از مرگ ایک بہت ہی پیچیدہ اور گمبھیر مسئلہ تو ہے ہی جس پر بحث صدیوں سے ہوتی آ رہی ہے مگر ایسا ہرگز نہیں کہ اب اس کی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے اس پر بحث کرنا بھی چھوڑ دیا جائے۔ میں اس مضمون میں زندگی اور جاویدانی کی بات کر رہا ہوں نہ کہ زندگی کی تجسیم کی جو کہ ایک مخصوص طرح کے جسم کی صورت میں ہوتی ہے اور آج بھی زندگی کی تجسیم لاکھوں اور کروڑوں شکلوں میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تجسیم جاویدانی ہے؟ تو جواب ہے ہرگز نہیں۔
مائیکل ہارٹ نے دنیا کے سو عظیم آدمی کے نام سے مشہور زمانہ کتاب لکھی اور زندہ اور سانس لیتی دنیا کو ان سو عظیم لوگوں کی حیات سے روشناس کرایا مگر وہ کوئی عظیم تجسیم کیوں نہ دکھا سکا؟ اسے بعد از مرگ لوگوں کو کیوں عظیم کہنا پڑا؟ میرے خیال میں وہ ان سو آدمیوں کو عظیم کہتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہ صرف زندہ نہیں تھے بلکہ وہ تو اپنے ساتھ ساتھ اپنے جیسوں کی زندگی میں رنگ بھرنے کے لئے زندہ تھے۔ دوسروں کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کی وجہ سے ان کو جاویدانی نصیب ہوئی اور آج تک یہ جاویدانی ان کو حاصل ہے۔ قاری کا اعتراض ہو سکتا ہے کہ رنگ بھرنا تو کوئی بڑا کارنامہ نہ ہے تو عرض کرتا چلوں کہ اگر دنیا میں کوئی کارنامہ ہے تو وہ یہی ہے کہ دوسروں کی زندگیوں میں خوشیاں لے کر آؤ۔
صنعتی اور سائنسی انقلاب کے بعد لوگوں کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کا جذبہ ماند پڑ گیا اور وہی رنگ مشینوں میں یا پھر مشینوں کے ذریعے بھرے جانے لگے۔ ہر دو صورتوں میں یہ غلط تھا یا یوں کہیے کہ نا مناسب تھا۔ انسانی مورت کی زندگی سے تجسیم اس لیے ہوئی تھی کہ معاشرت کو پُرامن اور پُرسکون رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے ارتقاء کو بھی جاری رکھا جائے جو کہ کوشش اور محنت سے ممکن تھا مگر انسان نے وہ کوشش اور محنت مشینوں کے لیے چھوڑ دی۔ انسان کی کوشش اور محنت احساس سے بھرپور ہوتی ہے جبکہ مشینوں کی محنت احساس سے عاری۔ انسانی کوشش اور محنت معاشرت کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے جبکہ مشینی محنت آلات کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ شاید علامہ اقبال نے اسی لیے کہا تھا کہ
”ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت“
ایسا ہرگز نہیں ہے کہ آج جاویدانی ممکن نہیں یا کمائی نہیں جا سکتی۔ بالکل ایسا ممکن ہے اور ہو بھی رہا ہے مگر ہمیں اسے دیکھنے کا موقع میسر نہیں۔ اور جب ہمیں احساس ہوتا ہے تو تب وقت کی سبک رفتاری ہمیں اجازت نہیں دیتی۔
آئیے آج کے دور کی مناسبت سے ہم اس معمہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ معمہ نہ تو جسمانی ہے اور نہ ہی مکانی۔ میرے خیال میں یہ معمہ احساساتی اور شعوری ہے۔ یعنی کہ آپ محسوس کرنے اور محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ یعنی آپ کو اس چیز کا احساس اور شعور ہے کہ کیا محسوس کرنا ہے اور کیا محفوظ کرنا ہے۔ اگر تو یہ تمیز ایک انسان میں موجود ہے تو وہ خود بھی زندہ جاوید ہے اور وہ جاویدانی کو بھی پروان چڑھا رہا ہے۔ اس کی بہترین مثال فنکار کی ہے۔ آپ ایک فنکار کو دیکھ لیں کہ وہ کس طرح عارضی چیزوں اور لوگوں کو دوام بخشتا ہے اور ان کے لیے جاویدانی کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔
یہاں ایک امر قابل ذکر ہے کہ میں کسی مخصوص فنکار کی بات نہیں کر رہا بلکہ میں ہر اس آدمی کو فنکار کہہ رہا ہوں جو پیشہ ور ہے، جو اپنے کام میں ماہر ہے، جو لوگوں کی زندگیوں میں رنگ بھرنا جانتا ہے۔ ایک بہترین معلم بھی فنکار ہے۔ اور اسی فنکار کی وجہ سے لوگ موت کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں کیونکہ یہ سب فنکار کی محنت، کوشش اور کاریگری کا ثمر ہوتا ہے۔