ڈاکٹر بمقابلہ مصنوعی ذہانت: طبی دنیا کا نیا معرکہ

کیا آنے والے وقت میں ہمارا علاج انسان نہیں بلکہ ایک مشین کرے گی؟ یہ وہ سوال ہے جس نے آج پوری طبی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب زندگی اور موت کے فیصلوں کی بات آتی ہے، تو ہم ہمیشہ ایک ڈاکٹر کے تجربے اور اس کے انسان دوست رویے کی طرف دیکھتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں برطانوی اخبار ”دی گارڈین“ سمیت دنیا کے مؤقر جریدوں میں جو چشم کشا حقائق سامنے آئے ہیں، انہوں نے اس صدی کا سب سے بڑا مباحثہ شروع کیا۔ طبی تحقیق کا یہ میدان اب انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان ایک ایسا معرکہ بن چکا ہے، جس کے نتائج نے ماہرینِ صحت کو بھی گہری سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔
حاضر و مستقبل کے سنگم پر کھڑے ہو کر جب ہم دنیا کے بدلتے ہوئے رجحانات کا جائزہ لیتے ہیں، تو صحت کا شعبہ ہمیں سب سے زیادہ حیران کن تبدیلیوں سے گزرتا دکھائی دیتا ہے۔ آج کل بین الاقوامی پریس، سائنسی جرائد اور تحقیقی حلقوں میں ایک ہی سوال سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے : کیا وہ وقت قریب آ چکا ہے جب انسانوں کا علاج انسان نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کرے گی؟ اس تحقیقی معرکے میں جب پیچیدہ طبی کیسز کی تشخیص کا موازنہ کیا گیا، تو چیٹ جی پی ٹی جیسے جدید اے آئی سسٹمز نے روایتی انسانی ڈاکٹروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ موضوع آج کی صحافت اور طبی اخلاقیات کا سب سے اہم موڑ بن چکا ہے۔

دنیا کے مؤقر طبی جریدے ”نیچر میڈیسن“ میں شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، جہاں روایتی طریقوں سے کام کرنے والے ڈاکٹروں کی اوسط تشخیصی درستگی 50 سے 70 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی، وہیں مصنوعی ذہانت نے پیچیدہ کیسز میں درستگی کا یہ تناسب 70 سے 80 فیصد یا اس سے بھی زائد ظاہر کیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اے آئی کے پاس دنیا بھر کی لاکھوں طبی رپورٹس، نایاب بیماریوں کی ہسٹری اور سائنسی مقالوں کا ڈیٹا سیکنڈوں میں موجود ہوتا ہے، جو انسانی دماغ کے لیے ایک وقت میں اتنی وسعت سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
تاہم، اس کہانی کا ایک اور اہم اور دلچسپ پہلو وہ ہے جو انسانی نفسیات اور روایتی ہچکچاہٹ سے جڑا ہوا ہے۔ جب اسی تحقیق کے دوران انسانی ڈاکٹروں اور مصنوعی ذہانت کو ملا کر مشترکہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا گیا، تو نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ جب انسانی ڈاکٹروں کو اے آئی کے سسٹمز کے ساتھ جوڑا گیا، تو بعض مقامات پر مجموعی کارکردگی کا گراف نیچے آ گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بعض ڈاکٹروں نے اپنی روایتی طبی عادت یا ذاتی رائے کی وجہ سے اے آئی کی فراہم کردہ درست تشخیصی تجاویز کو مسترد کر دیا۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اسے ”Human۔ AI Interaction Barrier“ کہا جاتا ہے، جہاں انسانی فہم اور مشین کی تیز رفتار منطق کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بعض اوقات اچھے نتائج کو بھی متاثر کر دیتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا اور پریس نے اس موضوع پر اپنے وسیع تجزیے پیش کیے۔ امریکی اخبارات جیسے ”نیویارک ٹائمز“ اور ”واشنگٹن پوسٹ“ نے اس بحث کو آگے بڑھایا کہ ان سسٹمز کو بطور ثانوی رائے استعمال کرنے سے طبی غلطیوں کے تناسب میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف، عربی میڈیا بالخصوص ”الجزیرہ ریسرچ پورٹل“ نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کے طبی شعبے کو بھی اپنے اداروں میں اس ٹیکنالوجی کو لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ مریضوں کی جانیں بچانے کے عمل کو مزید تیز اور غلطیوں سے پاک کیا جا سکے۔ فارسی اور دیگر عالمی میڈیا رپورٹس میں بھی اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر اب کوئی مستقبل کا خواب نہیں بلکہ آج کی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔
اعداد و شمار اور سائنسی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ تشخیص کے میدان میں مصنوعی ذہانت انسانی ڈاکٹروں پر سبقت لے گئی ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ڈاکٹروں کی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ علاج صرف ایک سائنسی فارمولا نہیں ہے ؛ اس میں مریض کو جذباتی سہارا دینا، تسلی بخش الفاظ کہنا اور اخلاقی ذمہ داری اٹھانا شامل ہے، جو کوئی مشین کبھی فراہم نہیں کر سکتی۔ بہترین مستقبل اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہمارے ڈاکٹرز ٹیکنالوجی کو اپنا رقیب سمجھنے کے بجائے ایک مددگار کے طور پر قبول کریں، تب ہی ہم صحت کا ایک ایسا بہترین اور غلطیوں سے پاک نظام تشکیل دے سکیں گے جو انسانوں کے لیے واقعی مفید ثابت ہو۔


