غزہ کے محاذ پر الجزیرہ کا پلٹتا رخ؟

یوں تو قلم کا ہنر ہمیشہ سے مظلوم کی ڈھال اور سچ کا استعارہ رہا ہے، مگر جب سچ لکھنے والوں ہی کے قلم پر پہرے لگنے لگیں اور ان کے معاشی تحفظ کی ڈور کاٹ دی جائے، تو یہ صورتحال کسی بھی باشعور انسان کے دل کو چھلنی کر دینے کے لیے کافی ہے۔
تاریخ نے شاید ہی کبھی اتنی خون آشام اور غیر مساوی جنگ دیکھی ہو جتنی پچھلے کچھ عرصے سے غزہ کے محاذ پر لڑی جا رہی ہے۔ اس جنگ میں اگر ایک طرف ٹینکوں، بمبار طیاروں اور مسلط کردہ قحط کی ہولناکیاں تھیں، تو دوسری طرف مٹھی بھر ایسے بہادر صحافی تھے جنہوں نے کیمرہ اور قلم اٹھا کر دنیا کو وہ مناظر دکھائے جنہیں چھپانے کے لیے ہر حربہ آزمایا گیا۔ اکتوبر 2023 سے اب تک اس راہ میں سمر ابودقہ، حمزہ الدحدوح، اسماعیل الغول، حسام شبات اور پیارے انس الشریف جیسے درجنوں میڈیا کارکنوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان میں سے بعض کی آخری سانسیں کیمرے کے لینس کے پیچھے ٹوٹیں اور کئی نے اپنے پورے خاندان سمیت شہادت کا جام نوش کیا۔ ان قربانیوں نے صحافت کی تاریخ میں جرات کی ایک ایسی لازوال داستان رقم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔
مگر افسوس! اب جو اطلاعات غزہ کے اندر سے سامنے آ رہی ہیں، وہ دل کو دہلا دینے والی ہیں۔ مختلف عربی، انگریزی اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ اب صرف گلی محلوں کی چہ مگوئیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے مؤقر میڈیا پلیٹ فارمز پر بحث کا موضوع بن چکا ہے۔
لبنان کے مؤقر روزنامے «الاخبار» نے اس معاملے پر گہرے اندرونی حقائق (کوالیس) شائع کیے ہیں، جن کے مطابق ”الجزیرة مباشر“ نے غزہ میں خدمات انجام دینے والے 24 سے زائد صحافیوں، کیمرہ مینوں اور پروڈیوسرز کے معاہدے اچانک ختم یا تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والے ادارے مرکز سکایز (Skeyes Media) نے بھی متاثرہ صحافیوں کے بیانات کے ساتھ اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ ان جاں باز کارکنوں کو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے یا تو فارغ کر دیا گیا ہے یا پھر انہیں مقامی پرائیویٹ پروڈکشن کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے محدود مدت کے ”نظامِ قطعہ“ (freelance / piece۔ rate) پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مصری میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ”مصراوی“ نے بھی اس تبدیلی کو نمایاں طور پر کور کیا ہے۔
دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر برطانیہ میں قائم فلسطینی صحافیوں کی یونین (General Union of Palestinian Journalists in the UK) نے اس پر باضابطہ نوٹس جاری کیا ہے، جبکہ آذر نیوز اور Gaza 24 Live جیسے انگریزی پلیٹ فارمز نے بھی اس پیشرفت کو رپورٹ کیا ہے۔ ان تمام رپورٹس میں اس خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اسرائیل جو پہلے ہی ان صحافیوں پر حماس سے وابستگی کے جھوٹے الزامات عائد کرتا رہا ہے، ایسے وقت میں الجزیرہ کی طرف سے معاہدوں کا خاتمہ یا تبدیلی انتہائی تشویشناک ہے۔
برطانیہ میں قائم فلسطینی صحافیوں کی یونین اور دیگر حلقوں نے بھی اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل جو پہلے ہی ان صحافیوں کو نشانہ بناتا رہا ہے، اب اس قسم کے انتظامی فیصلوں کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں۔ جنگ کے انتہائی خطرناک اور کٹھن حالات میں جب صحافی فاقہ کشی اور بمباری کے سائے میں جیمز بانڈ جیسی زندگی گزار رہے ہوں، ان کے قانونی اور پیشہ ورانہ تحفظ کو اس طرح یکسر ختم کر دینا نہ صرف انسانی ہمدردی کے منافی ہے بلکہ صحافتی اقدار کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔
کیا یہ محض ایک انتظامی اور مالی بحران ہے؟ یا پھر عالمی دباؤ کے تحت پالیسیوں میں کوئی خاموش تبدیلی آ رہی ہے؟
جنگ کے انتہائی خطرناک اور کٹھن حالات میں جب صحافی فاقہ کشی اور بمباری کے سائے میں زندگی گزار رہے ہوں، ان کے قانونی اور پیشہ ورانہ تحفظ کو اس طرح یکسر ختم کر دینا نہ صرف انسانی ہمدردی کے منافی ہے بلکہ ان کے حقوق کی پامالی اور صحافتی اقدار کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔
غزہ میں سچ بولنے والی آوازیں پہلے ہی ایک ایک کر کے خاموش کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں اگر وہ ادارہ بھی، جو اس جنگ کی سب سے توانا شہادتیں دنیا تک لایا، اپنے ہی میدان کے سپاہیوں کو معاشی اور پیشہ ورانہ عدم تحفظ کا شکار کر دے تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ یہ صرف ان 24 صحافیوں کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر کے ان ناظرین کا حق ہے جو سچ کی تلاش میں اسکرین سے جڑے رہتے ہیں۔ الجزیرہ نیٹ ورک کو اس سنگین معاملے پر فوری اور شفاف باضابطہ وضاحت دینی چاہیے، تاکہ سچ کی اس مقدس جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کا اعتماد مجروح نہ ہو اور تاریخ کے کٹہرے میں کسی ابہام کی گنجائش نہ بچے۔
