ریاستی بیانیہ بمقابلہ پشتون قبائلی بیانیہ
راقم ہمیشہ اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہونے والی جنگ میں بنیادی مسئلہ یہ نہیں کہ کون مرا یا شہید ہوا اور کس کا زیادہ نقصان ہوا بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی بیانیے اور پشتون قبائلی بیانیے میں بنیادی تضاد ہے جو دن بدن بڑھ رہا ہے۔ یقیناً ایسا ہی ہوا، جس کے نتیجے میں اس وقت پورے پختونخوا میں وہی بیانیہ پیوست ہو گیا ہے اور بیانیے کی یہ مخالفت اب مزید پھیلتی جا رہی ہے۔
پختونخوا میں سرائیکی بھی کافی تعداد میں رہتے ہیں اور اگر آپ ان سے بات کریں گے تو وہ بھی اسی بیانیے کا ساتھ دیتے نظر آئیں گے جو عوامی سطح پر موجود ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہروں اور بدامنی کا اکثر مبصرین 2007/8 سے موازنہ کرتے ہیں لیکن میری نظر میں یہ بالکل غلط موازنہ کر رہے ہیں۔
سال 2007/8 میں خیبرپختونخوا کے بندوبستی علاقے اس حد تک ضرور متاثر ہوئے تھے کہ یہاں دھماکے ہو جایا کرتے، عام لوگ مارے جاتے لیکن ریاستی رٹ کا مسئلہ ہرگز نہیں تھا جبکہ اب بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی رٹ پختونخوا میں انتہائی کمزور ہو رہی ہے اور خدشہ ہے کہ خدا نخواستہ یہ مزید کمزور ہوتی جائے گی اور ایسی صورت میں نتائج بھی مثبت نہیں نکلیں گے۔
اب آتے ہیں بیانیے کے فرق کی طرف، تو سب سے پہلے تو ریاست ایک لاکھ شہادتوں کے بعد بھی عام لوگوں کو یہ یقین نہیں دلا سکی کہ یہ جنگ اصلی ہے۔ اس وقت دہشتگردی کے خلاف ہونے والی جنگ کے حوالے سے دونوں اطراف کی بالکل الگ الگ رائے ہیں اور میں نے اس خطے کے حوالے سے جب بھی لکھا ہے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک آپ عام لوگوں کو اس بات کا یقین نہیں دلائیں گے کہ ہم آپ کے اپنے ہیں تب تک آپ بدامنی پر قابو نہیں پا سکتے۔
اپنائیت سے مراد یہ نہیں کہ آپ اخبار یا ٹی وی بیان دیں یا جرگے میں آ کر بیان دیں کہ آپ نے بڑی قربانیاں دیں اس ملک کے لیے وغیرہ اور دوسرے دن اقدامات بالکل متضاد سامنے آئیں۔ بدقسمتی سے ہم نے تو ایسا ہی دیکھا ہے۔
بیانیے کے اس تضاد میں حالیہ اضافہ آپریشن کے حوالے سے سامنے آ رہا ہے۔ ملک کے دو صوبوں سندھ اور بالخصوص پنجاب میں یہ تاثر ہے کہ لوگ آپریشن کی مخالفت کر کے دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن یہ سوچ اور بیانیہ بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا ہم ابتدا سے ان آپریشنوں کے دوران غلطیاں کرتے آرہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کا ہر شہری اپنے علاقے گھر گاؤں اور شہر میں امن چاہتا ہے لیکن کیا کسی نے اس پچھلے کیے گئے آپریشنوں میں عام لوگوں کے ساتھ کیے گئے سلوک کی کبھی بات کی ہے؟
چلیں پچھلا دور چھوڑیں حال کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ تین چار سالوں سے جاری کارروائیوں کے حوالے سے آپریشن حامی کیوں حقائق کے خلاف ہی کھڑے رہتے ہیں؟ صرف اس سال کئی ڈرون حملے عام لوگوں کے گھروں پر ہوئے، کئی مارٹر گولے عام لوگوں کے گھروں پر گرے جس سے خواتین سمیت کئی بے گناہ بچے و بڑے شہید ہوئے۔
اور پھر بجائے اس کے کہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردیاں ہوں اور غلطی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو، بہت ہی غلط طریقے سے ڈیل کرنا شروع کر دیتے ہیں، بے گناہ مارے جانے والوں کے خلاف پراپیگنڈہ شروع ہوجاتا ہے جس سے غلط فہمیاں مزید بڑھنی شروع جاتی ہیں۔ ایسے غلط فیصلوں اور اقدامات کی وجہ سے ہی یہ حالات بنے ہیں۔ دوسرا مرے اس کا بچہ مرے تو کیا؟ بس میرا احتساب نہ والی عادتوں کی وجہ سے ہی عام لوگوں کی یہ رائے بن چکی ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے عام لوگوں کو تکلیف دینے کے لیے ہو رہا ہے اور اوپر سے آپریشن کر کے ہمیں تکلیف دیں گے، ہمارے گھر بار کاروبار ختم کر دیے جائیں گے اور پہلے کی طرح نقصان بھی نہیں دیں گے۔
میری نظر میں یہ عوام کی غلطی نہیں ہے کیونکہ عام لوگوں کے ذہن سفید کاغذ کے مانند ہوتے ہیں جس پر ریاست اپنی مرضی کی سیاہی سے وہ بیانیہ لکھ سکتی ہے جو دائمی ہو لیکن یہاں جو کچھ لکھوایا گیا ہے وہ بالکل بھی مثبت نہیں ہے۔
سب سے اہم مسئلہ تو یہ ہے کہ آپ نے خیبرپختونخوا میں سویلین اداروں کو بالکل ہی بے وقعت بنا دیا ہے، آپ کا سب سے بنیادی کردار اور ہتھیار ڈپٹی کمشنر ہونا چاہیے تھا، آپ کی پولیس اور ان کے افسران کو بنیادی مسائل کے حل کا ہیڈکوارٹر ہونا چاہیے تھا۔ یاد رکھیں کہ فوجی دماغ فوجی کی طرح سوچ سکتا ہے اور سویلین اس مائنڈ سیٹ کو سمجھ سکتا ہے جو عام لوگوں کے ہوتے ہیں۔ میں اب بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر اختیار سویلین اداروں کے پاس چلا جائے اور ادارے دفاعی لائن پر تیار کھڑے رہیں تو کافی حد تک بہتری لائی جا سکتی ہے۔
شاید کہ میری باتیں موجودہ ایس او پیز کے مطابق نہ ہوں لیکن میرا ماننا ہے کہ اب بھی تھوڑا بہت وقت ہے کہ آپ اختیار عام لوگوں (سویلین حکومت اور اداروں ) کو دے کر اس ملک، خیبرپختونخوا اور کروڑوں لوگوں کے لئے امن کی بنیاد ڈال سکتے ہیں۔
