انصاف کا بحران اور 27 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کا نیا امتحان

کہا جاتا ہے کہ انصاف کسی بھی ریاست کی بنیاد کا سب سے مضبوط ستون ہوتا ہے۔ وہ ریاستیں جہاں امیر اور غریب ایک ہی کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں، ترقی خود ان کے قدم چومتی ہے۔ جہاں حاکم خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھیں، وہاں عوام کو اپنے حقوق کے تحفظ کا یقین ہوتا ہے۔ مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان اس بنیادی اصول کو درست سمت میں لے جانے میں آج بھی ناکام دکھائی دیتا ہے۔
ہمارے ہاں انصاف کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل رکھتا ہے۔ برصغیر کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پنچایت سے عدالت تک فیصلے اکثر برادری، سفارش، یا طاقت کے زور پر ہوا کرتے تھے۔ آج اکیسویں صدی میں آ کر بھی ہم انصاف کی فراہمی کو منصفانہ، تیز تر اور غیر جانب دار نہیں بنا سکے۔ عدالتوں میں مقدمے نسلوں تک چلتے ہیں اور محترم جج صاحبان کے فیصلوں پر عوام کا اعتماد روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔
بدقسمتی سے ہماری عدلیہ وہ ادارہ ہے جس سے سب سے زیادہ امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی نظام بدترین سیاسی تقسیم کی زد میں ہے۔ جسٹس افتخار چودھری کے زمانے سے شروع ہونے والے عدالتی ایکٹوازم سے لے کر حالیہ برسوں میں عدلیہ کی سیاسی صف بندی تک، فیصلے اکثر عوامی احساس کے بجائے طاقت کے توازن کے مطابق دکھائی دیتے ہیں۔ عدالتیں ازخود نوٹس سیاسی وقت بندی کے مطابق لیتی ہیں، اور عوام کے بڑے مقدمات تفتیشی سطح پر ہی دب جاتے ہیں۔ ”قانون سب کے لیے برابر“ کا نعرہ کاغذ تک محدود رہ گیا ہے کیونکہ با اثر طبقے ریلیف کے لیے صرف دروازے نہیں کھٹکھٹاتے بلکہ وہی دروازے ان کے استقبال کے لیے کھل جاتے ہیں۔
اسی پس منظر میں 27 ویں آئینی ترمیم کو دیکھا جائے تو بظاہر اس کا مقصد معزز جج صاحبان کی تعیناتی اور ان کی آزادی کو شفاف بنانا ہے۔ اس ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کے دائرہ کار میں نئی حدود مقرر کی گئیں تاکہ محترم جج صاحبان کی تقرری کے عمل کو سیاسی اثر سے آزاد بنایا جا سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے واقعی عدلیہ غیر جانب دار ہو پائے گی؟ کئی ماہرین قانون سمجھتے ہیں کہ اگر پارلیمانی کمیٹی کو زیادہ اختیار دے دیا گیا تو محترم جج صاحبان کی تقرری ایک نیا سیاسی میدان بن جائے گی۔ پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر اس خدشے کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ”جب تقرری کا بنیادی فلسفہ میرٹ کے بجائے سیاسی موافقت بن جائے تو پھر انصاف کا معیار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ آزاد عدلیہ کا راستہ وہی ہے جہاں معزز جج قانون کے پابند ہوں، نہ کہ کسی سیاسی طاقت کے محتاج۔“
عدلیہ کا مسئلہ محض تاخیر یا مقدمات کا بوجھ نہیں بلکہ اس کے معیار سے جڑا ہوا ہے۔ 2022 ء کی سپریم کورٹ کی رپورٹ کے مطابق پچاس ہزار سے زائد مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ بظاہر یہ اعداد و شمار عدالتی مصروفیت کا ثبوت ہیں مگر سوال یہ ہے کہ یہ فیصلے کس معیار کے ساتھ صادر ہوتے ہیں۔ اس کا موازنہ اگر امریکی یا برطانوی نظام سے کریں تو تصویر خود بولتی ہے۔
امریکہ کی سپریم کورٹ میں ہر سال تقریباً دس ہزار درخواستیں آتی ہیں لیکن ان میں سے صرف ڈیڑھ سو سے دو سو مقدمات ہی سماعت کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔ وہاں اعلیٰ عدلیہ وہی کیس سنتی ہے جو نظامِ انصاف کے لیے نظیر یا رہنما بن سکتا ہو۔ ”رٹ آف سرشیآری“ کے نام سے قائم اس اصول کے تحت یہ رٹ عام طور پر اُس وقت دائر کی جاتی ہے جب نچلی عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہو، قانون کی غلط تشریح کی ہو، یا فریقین کو منصفانہ سماعت کا موقع نہ دیا ہو۔ یہ رٹ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ اور آرٹیکل 184 ( 3 ) کے تحت سپریم کورٹ جاری کر سکتی ہے۔
برطانیہ میں بھی عدالتی کارروائی عام شہری دیکھ سکتا ہے۔ طلبا کے لیے فری آن لائن کورسز دستیاب ہیں تاکہ وہ قانون کو سمجھ سکیں۔ عدالت کے اخراجات اور کارکردگی کے اعداد و شمار بھی ہر سال عوام کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ یہاں عدالت میں فائل لے کر جانے والا شہری بارہا دروازوں سے ٹکراتا ہے۔ وکیل کی فیس ادا کرے تو اسٹینوگرافر کا نذرانہ دینا پڑتا ہے۔ معزز جج کا وقت لینے کے لیے دوبارہ وکیل کا چکر لگے تو پیشی کی تاریخ مہینوں آگے دھکیل دی جاتی ہے۔ کسی کو انصاف سالوں بعد ملتا ہے اور کسی کو کبھی نہیں۔
سیاسی اثر و رسوخ نے عدلیہ کو اور بھی کمزور کر دیا ہے۔ کسی دور میں فوجی آمریت کے لیے نظریہ ضرورت ایجاد کیا گیا اور آج کے دور میں سیاسی وفاداریوں کے لیے عدالتی موشگافیاں۔ یہی دوہرا معیار عام آدمی کے دل سے عدلیہ پر اعتماد ختم کر دیتا ہے۔ عوام کہتے ہیں کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے جبکہ طاقتور اپنے پسند کے بنچ سے اپنی پسند کے فیصلے لکھوا لیتے ہیں۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے اصلاح کی ضرورت نعرے سے زیادہ عمل مانگتی ہے۔ سب سے پہلے عدلیہ کو خود اپنی صفوں میں احتساب کا نظام مضبوط بنانا ہو گا۔ محترم جج صاحبان کی کارکردگی، ان کے فیصلوں کے معیار اور ضابطہ اخلاق پر کھلا اور باقاعدہ نگران نظام قائم کیا جائے۔ دوسرا اقدام یہ ہونا چاہیے کہ مقدمات کے فیصلے کی ٹائم لائن مقرر ہو تاکہ کوئی کیس برسوں لٹکا نہ رہے۔ ای عدالتوں یعنی ڈیجیٹل عدالتی نظام کو وسعت دے کر ون ونڈو جسٹس سسٹم قائم کیا جائے۔
تیسری اصلاح عدالتی خود مختاری کے ساتھ عدالتی شفافیت کی ہے۔ یورپ کی طرز پر عدالتوں کے سالانہ اخراجات، فیصلوں کے اعداد و شمار اور زیر سماعت مقدمات کی تفصیل کو عوامی بنایا جائے تاکہ کسی کو عدلیہ کے مالی یا انتظامی فیصلوں پر شک نہ رہے۔ چوتھی اور سب سے اہم بات یہ کہ سیاست اور عدالتی فیصلوں کے درمیان حدِ فاصل کو برقرار رکھا جائے۔ کسی معزز جج یا بینچ پر سیاسی رجحان کا شائبہ بھی انصاف کے وقار کو داغ دار کرتا ہے۔
پاکستانی عدلیہ کے لیے اصل چیلنج اب سیاسی دباؤ نہیں بلکہ اپنی ساکھ بحال کرنا ہے۔ اگر 27 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ خود کو سیاست سے الگ رکھ کر محض قانون کی روشنی میں فیصلے دینا شروع کرے تو وہ دن دور نہیں جب عوام پھر سے عدالتوں کو امید کی کرن سمجھنے لگیں گے۔ انصاف کے لیے قلعہ بند ادارہ بننے کے بجائے اگر عدلیہ خود کو عوام سے جوڑ لے تو قانون کا خوف اور اعتماد دونوں ایک ساتھ بحال ہو سکتے ہیں۔
انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ عدالتیں طاقت کے نہیں، اصول کے تابع ہوں۔ ریاستیں تلوار کے زور سے نہیں بلکہ انصاف کے بل پر چلتی ہیں، اور جس سماج میں معزز جج خود کو طاقتور کے بجائے سچ کا محافظ سمجھے، وہاں انصاف کے بیج سے خوشحالی کی فصل ضرور اگتی ہے۔
