جمہوری قدروں کو ڈستا ہوا ”بیانیہ“
پاکستان کی سیاسی تحریک پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمیں اکثریتی عوام ریاستی بیانیے کی حامی لگتی ہے، جس میں اہم بات ریاستی بیانیے کا جذباتی نکتہ نظر ہے جس کے تحت قومی سلامتی کی مذہبی تفہیم کے تحت حب الوطنی کا حقائق سے برعکس بیانیہ پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے مقابل بائیں بازو کی ترقی پسند یا کمیونسٹ/ سوشلسٹ سوچ کے مطابق باشعور سیاسی و جمہوری نکتہ نظر کمزور نظر اتا ہے یا اسے ریاستی مشینری کمزور کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے، جس میں وہ اپنا ہمنوا ان سیاسی و مذہبی جماعتوں کو رکھتی ہے جن میں اقتدار کی لالچ ان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ طاقتوروں کی پرورش میں ہی پھولے پھلیں، ان سارے حقائق کی روشنی میں یہ بات تمام تر پسند یا ناپسندیدہ ہونے کے باوجود ماننی پڑے گی کہ کہ تمامتر توانا اور باشعور سیاسی نکتہ نظر رکھنے کے باوجود ترقی پسند فکر کا باشعور نکتہ نظر عوام کی اکثریت کیوں قبول کرنے کی طرف آمادہ نہیں ہوتا؟
یہ آج کے ترقی یافتہ دور کی دنیا کا وہ اہم سوال ہے جس کو کسی طور پاکستان کے سیاسی تناظر میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس سوال کو سر دست سمجھنے کے لئے تین بنیادوں کو سب سے پہلے دیکھنے کی ضرورت ہے،
پہلی بنیاد۔ دو قومی نظریہ
دوسری بنیاد۔ سیاست کا بیانیہ
تیسری بنیاد۔ مستقل حل کے بجائے وقتی حکمت عملی۔
دو قومی نظریے کو آسانی سے سمجھنے کے لئے یہ تشریح کی جا سکتی ہے کہ متحدہ ہندوستان میں انگریز راج کی بالادستی کو ختم کرنے کے لئے متحدہ ہندوستان کی آزادی کے مقابل ہندو اور مسلم کی بنیاد پر دو قومی نظریے کی بنیاد پڑی جس کے لئے متحدہ ہندوستان کو آزادی دلانے کی کانگریس اور دیگر ترقی پسند قوتوں کے مقابل مسلم اکثریتی پارٹی مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی گئی جس نے برطانوی راج سے متحدہ آزادی لینے کے بر عکس ہندو اور مسلم کی بنیاد پر آزادی کا نعرہ لگایا جو کہ برطانوی بالادستی کی ایک طرح سے مدد تھی اور اسی نعرے کو بنیاد بنا کر ہندو مسلم کے لئے دو قومی نظریے کے تحت الگ الگ ریاستوں کا وجود ممکن ہوا، گو کہ آخر وقت تک کانگریس کی کوشش رہی کہ متحدہ ہندوستان کی آزادی کا واحد مطالبہ برطانوی راج کے سامنے رکھا جائے۔ مگر دو قومی نظریے کے جذباتی نعرے نے کانگریس کا ہندوستان کی متحدہ آزادی کا نعرہ بے اثر کر دیا اور یوں متحدہ ہندوستان دو ممالک میں تقسیم کر دیا گیا۔
یہ بھی تاریخ کا جبر ہے کہ ملکی آزادی اور الگ ملک قائم کرنے کی جذباتی خوشیوں کے درمیان نئے ملک یعنی پاکستان کی سیاست کا سیاسی یا بہتر سماج کی تشکیل کا کوئی بیانیہ نہ بن پایا اور مسلم لیگ کے جاگیردار، نواب، سردار، وڈیرے اور خان آپس ہی کی رنجشوں اور اختلاف کی نظر ہو گئے اور دستور ساز اسمبلی تمام تر کوششوں کے باوجود ملکی سیاست اور انتظام کو سنبھالنے کے لئے نہ ہی کوئی آئین دے سکی اور نہ ہی ملک کی باگ ڈور چلانے اور سماج کی تشکیل کی سمت متعین کرنے کا کوئی سیاسی بیانیہ تخلیق پا سکا، یہ قابل افسوس بات ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ کی قیادت کا وہ مجرمانہ عمل تھا جس کا فائدہ لالچ سے بھرپور میجر ایوب خان کسی نہ کسی طور بھانپ رہا تھا اور قائد اعظم کا یہ معروف قول کہ ”میری جیب میں کچھ کھوٹے سکے موجود ہیں“ بنیادی طور سے مسلم لیگ کے نوابین اور مفاد پرست جاگیرداروں کی طرف واضح اشارہ تھا جس کی قیادت نواب لیاقت علی خان کر رہے تھے، اور پاکستان قائم کرنے کے بنیادی نظریے میں پہلی دراڑ یا اس کو نقصان پہنچانے والے فرد لیاقت علی خان ہی کہے جا سکتے ہیں جنہوں نے قائد اعظم کی تمامتر مخالفت کے باوجود میجر ایوب خان کو نہ صرف اپنے قریب رکھا بلکہ ملک پر آمرانہ شب خون مارنے کے ایوب خان کے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لئے نہ صرف ایوب خان کو برگیڈیئر بنایا بلکہ جنرل تک بننے کی راہ ہموار کی، حالانکہ تاریخی طور پر میجر ایوب خان کو ملک کے خلاف اقدامات کی روشنی میں کورٹ مارشل تک کی سزا تجویز کر دی گئی تھی، نئی مملکت کے خلاف اقتدار حاصل کرنے کی خواہش اور کوشش کو پروان چڑھانے میں لیاقت علی خان نہ صرف تاریخ بلکہ عوام کی جمہوری آزادی کے وہ پہلے مجرم کہے جا سکتے ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کی اکثریتی عوام کے مینڈیٹ اور اقتدار میں مشرقی پاکستان کی اکثریت کو ختم کرنے کے لئے برگیڈیئر ایوب خان کی ملی بھگت کے ساتھ ملک کا پہلا ”کوٹہ سسٹم“ نظام روشناس کروایا، جس نے ملک کے مختلف حصوں میں احساس محرومی پیدا کی اور ملک کے عوام کی کوئی سیاسی سوچ یا سمت متعین نہ ہو سکی، ان تمام حالات کی روشنی میں میجر اسکندر مرزا کا تختہ الٹایا گیا اور ان سے جنرل ایوب نے اقتدار لے کر آمرانہ نظام نافذ کر کے 1956 کے آئین کو نہ بننے دیا اور نہ ہی عوام کی جمہوری آزادی پنپنے دی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو قومی نظریے کی آڑ میں اس ملک کو جنرل ایوب خان نے نہ صرف ”سیکیورٹی اسٹیٹ“ بنایا بلکہ مذہب کا جذباتی تڑکا لگا کر بلکہ الگ ملک بن جانے کے بعد دفن ہو جانے والے ”دو قومی نظریے“ کے مفاد پرست بیانیے کو نافذ کرنے کے لئے پاکستان کے قیام کی دو مخالف مذہبی جماعتوں یعنی جمعیت علما ہند اور جماعت اسلامی کو دو قومی نظریے کا پروپیگنڈا کرنے کی کھلی آزادی فراہم کی جنہوں نے آزادی سے سرشار سادہ لوح عوام کو مذہبی جذباتی بنا کر نہ صرف ایوب خان کے آمرانہ اقتدار کی راہ ہموار کی بلکہ آنے والے دو فوجی آمروں جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے اقتدار کو مضبوط کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش و مدد کی۔
اس مقام پر یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کے قیام کے وقت مسلم لیگ کی تنگ نظر اور مفاد پرستانہ سیاست کی مخالف کرنے والے صرف اور صرف کمیونسٹ یا کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان تھی جس نے عوام میں شہری و جمہوری حقوق کی جدوجہد کا علم اٹھایا اور سماج کے تمام طبقوں میں جمہوری آزادی کی سوچ پیدا کر کے انجمن سازی کے ذریعے حقوق لینے کی جدوجہد کو عام فرد تک پہنچایا اور سماج میں روشن خیال جمہوری سوچ کی تحریکیں منظم کیں جو آج بھی تمامتر ریاستی جبر کے باوجود کسی نہ کسی صورت جاری ہیں۔ حالانکہ عوام کو جمہوری آزادی دلانے کی پاداش میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی گئی، کمیونسٹوں کو قلعوں اور بندی خانوں میں تشدد کر کے ریاستی قتل کیا گیا مگر اس تمام کے باوجود کمیونسٹ روشن خیال سماج قائم کرنے کی یہ سوچ تمام تر منتشر حالات میں بھی تنگ نظر مذہبی افراد اور جبر کی ریاست سے لڑتی رہی اور آج تک نامساعد حالات میں بھی استقامت کے کھڑی ہے، گو اب کمیونسٹ سوچ کی وہ منڈلیاں، یونین سازی کی تحاریک نہیں مگر آج کے غیر جمہوری سیاست اور ہائبرڈ نظام کے ہوتے ہوئے بھی کمیونسٹوں کا روشن خیالی کا دیا نوجوانوں میں ایک ایسی امید لئے ہوئے ضرور ہے جس کو ازسر نو منظم کرنے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔
یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ پاکستان میں واحد سیاسی و نظریاتی پارٹی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان تھی جس کو کمزور کرنے کے لئے آمرانہ ریاست نے غیر حقیقی ”دو قومی نظریے“ گھڑا اور جمہوری آزادی کے لئے حاصل کیے گئے ملک کو زبردستی مذہبی ریاست بنا کر عوام کے جمہوری اور انسانی حقوق پر ڈاکا ڈالا، جس میں ریاست کا مکمل ساتھ مذہبی جماعتوں اور ان سیاسی کہلائی جانے والی پی پی پی، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، قوم پرستوں نے دیا جو آب پارہ کی کیاریوں میں پھلی پھولی تھیں۔
جمہوری و شہری آزادی دلانے کی کمیونسٹ و روشن خیال سوچ کو مذکورہ جماعتوں نے ریاست کے ساتھ مل کر دفن کرنے کی کوشش کی اور ہر مسئلے کا وقتی حل نکالنے کی کوشش کی جس نے آج ہماری ریاست کے عوام کو ایک ایسی نفسیاتی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب عوام اپنے جمہوری و سیاسی حقوق کے علاوہ ”ہائبرڈ نظام“ کے خاتمے سے کم کسی اور مطالبے کی روادار نہیں ہے۔
ریاستی گروہ کی مفاد پرستانہ حرکات اب اقتدار کی قوتوں سے عوام کے تعلق کو لا تعلق کر چکی ہیں، جو خطرناک رجحان ہے، عوام کا ”ہائبرڈ ریاست“ سے ”لا تعلق“ رہنا کسی طور درست عمل نہیں کہا جا سکتا، جس میں سراسر غلطی ”ریاستی گروہ“ کی وقتی حکمت عملی اپنانے کا غلط رجحان ہے، آج کے پاکستان میں جمہوریت ایک ایسا شکست خوردہ بیانیہ بنا دیا گیا ہے جسے ڈیپ اسٹیٹ عوام کے ذہنوں میں راسخ کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے، مسٹر ٹین پرسنٹ سے لے کر چور ڈاکو کے ریاستی بیانیے کی اب عوام میں وہ اہمیت نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام اپنے جمہوری حق لینے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائے۔ آج کے عوام کو امید دلانے اور ان کے حقوق کی جدوجہد کو صیقل کرنے کا واحد حل نئے تقاضوں میں کمیونسٹ فکر کا ازسر نو متحد ہونا اور بکھرے ہوئے پتوں کو سمیٹنے کے ساتھ اپنے فروعی و شخصی تضادات کو دفن کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
اس گنجلک سیاسی و غیر جمہوری سماج میں کم از کم ”ڈیپ اسٹیٹ“ اب ازسر نو ”دو قومی نظریے“ کا راگ الاپ کر یا اس فرسودہ خیال کا پروپیگنڈا کر کے عوام کی جمہوری و آئینی آزادی غصب نہیں کر سکتی۔

