شرح سود نیچے آئی، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
مہینوں انتظار کے بعد اب دسمبر میں سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی اور آنے والے دنوں میں مانیٹری نرمی (monetary easing) کا عندیہ دیا۔ اگرچہ بینکوں اور ماہرین کے لیے یہ غیر متوقع تھا، مگر معیشت کے لیے اس اشارے کی بہت ضرورت تھی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پچھلے کئی مہینوں سے قیمتوں میں استحکام نظر آ رہا تھا۔ ایسے میں ضروری تھا کہ سٹیٹ بینک ایک سگنل دے کہ معیشت اب پائیدار شرح نمو کے لیے تیار ہے۔ شرح سود میں آدھے فیصد کی کمی اگرچہ بہت زیادہ کمی نہیں ہے مگر سگنل کے طور پر اس کی بہت اہمیت ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے بیان میں شرح سود میں کمی کے اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے کئی اہم معاشی اشاریوں اور اندرونی و بیرونی عوامل کا حوالہ دیا۔ اگر سٹیٹ بینک کے بنیادی ہدف، اشیاءِ صرف کی قیمتوں کو دیکھیں تو یہ نوٹ کیا گیا کہ مالی سال 2026۔ 2025 کے جولائی تا نومبر کی مدت کے دوران اوسط مہنگائی (headline inflation) ہدف کی حد ( 5 تا 7 فیصد) کے اندر رہی ہے۔ تاہم، کمیٹی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بنیادی مہنگائی، جسے سٹیٹ بینک کور مہنگائی (Core inflation) کا نام دیتا ہے، میں اب بھی سختی ہے۔
معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے بہت سے خوش آئند اشارے ہیں۔ مثلاً موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں (LSM) کی پیداوار میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوا جو ظاہر کرتا ہے کہ کاروباری حلقے معیشت کے بارے میں مثبت نقطہ نظر رکھتے ہیں۔
مرکزی بینک کے جائزے کے مطابق، آٹوموبائل، کھاد، اور سیمنٹ کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ مشینری اور خام مال کی درآمد بھی بڑھی ہے جو مثبت رجحانات کو ظاہر کرتی ہے۔ ان مثبت پیش رفتوں کی روشنی میں، مانیٹری پالیسی کمیٹی کا جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 4 فیصد کے قریب ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے پستی کا شکار معیشت کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہے۔
بیرونی شعبے کی طرف نظر دوڑائیں تو مسلسل بڑے قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود، سٹیٹ بینک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جاری ہے۔ حال ہی میں آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر قسط جاری ہونے سے یہ ذخائر 16 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ تین سال پہلے یہ ذخائر 4 ارب ڈالر تک گر گئے تھے اور ملک دیوالیہ ہونے پر تھا۔ لیکن آج ہم ایک قابل اعتماد اور مستحکم سطح پر ہیں۔
اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1 فیصد کے اندر رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اگر بلند گروتھ کی توقعات کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ اسی سطح پر رہتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ ہماری معیشت روایتی مدوجزر (boom and bust) کے چکر سے نکل رہی ہے۔
ایک خوشنما تصویر حکومت کے مالیاتی معاملات یعنی بجٹ کی صورتحال میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پرائمری مالیاتی میزان اور مجموعی میزان دونوں سرپلس میں تھے۔ اس کی ایک وجہ تو سٹیٹ بینک کے منافع کی بڑی رقم تھی جو حکومت کو ملی اور دوسرا اخراجات میں کنٹرول، جس کے پیچھے کسی حد تک آئی ایم ایف کی شرائط بھی ہیں۔
سٹیٹ بینک معیشت کی نبض دیکھنے کے لیے باقاعدگی سے کچھ سروے کرتا ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق، عام صارفین کا اعتماد بہتر ہوا ہے، جبکہ کاروباری طبقے کا معیشت پر اعتماد بھی مثبت زون میں ہے، اگرچہ اس میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔
یہ مثبت رجحانات اپنی جگہ، معیشت کو کچھ خطرات کا اب بھی سامنا ہے اور ان کا ذکر مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے بیان میں بھی کیا ہے۔ خصوصاً عالمی معاشی ماحول بدستور مشکل ہے، خاص طور پر برآمدات کے لیے، جو مجموعی معاشی منظرنامے پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں ممکنہ کمی و بیشی، اور گندم سمیت دیگر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال معیشت پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔
اگرچہ سٹیٹ بینک نے معیشت کے آئندہ منظر نامے کے بارے میں مثبت اشارے دیے ہیں اور اپنی حد تک، پالیسی ریٹ میں کمی کر کے ایک سگنل دے دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کا نجی شعبہ کس حد تک سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو تحریک دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سٹیٹ بینک اور حکومت دونوں ابھی سے معاشی رفتار اور معاشی سرگرمیوں کے خد و خال پر نظر رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ تیز شرح نمو کے چکر میں معیشت پھر عدم توازن کا شکار ہو جائے۔

