چولستان میں چنن پیرؒ کا سالانہ میلہ، جنگل میں منگل

سابق ریاست بہاول پور کے بہت سے علاقوں میں سینکڑوں بزرگان دین نے اشاعت اسلام اور تبلیغ کی جس کی بدولت یہاں کے ماحول میں دین سے جذباتی وابستگی دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ دیکھی جا سکتی ہے۔ بزرگان دین کی محنتوں کے نتیجہ میں آج سابق ریاست بہاول پور کے علاقے دین کا گہوارہ سمجھے جاتے ہیں۔ لاکھوں ایکڑ پر محیط صحرائے چولستان میں واقع درگاہ شریف حضرت چنن پیرؒ کا سالانہ میلہ ماہ مارچ میں منعقد کیا جاتا ہے۔ سات ہفتوں پر محیط اس طویل اور تاریخی میلہ میں روہی یعنی چولستان میں بسنے والے روہیلے اپنے فطری مزاج کے تحت پیروں، فقیروں اور بزرگان دین سے اپنی عقیدت کا اظہار میلوں اور عرسوں میں ہی کرتے ہیں اور اس تاریخی میلہ چنن پیر ؒ میں روہیلوں اور عقیدت مندوں کی عقیدت کا اظہار بخوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ میلوں لمبے اور چوڑے ریتلے میدانوں میں ہجوم انسانی جنگل میں منگل کا سامان پیش کرتا ہے۔
حضرت چنن پیرؒ کے بارے میں ویسے تو بہت سی روایات بتائی جاتی ہیں مگر ایک مستند روایت کے مطابق حضرت چنن پیر جیسلمیر کے ہندو راجا کی اولاد ہیں جن کے بارے میں سلسلہ بخاریہ کے عظیم روحانی پیشوا مخدوم حضرت جہانیاں جہاں گشتؒ نے پیش گوئی کی تھی کہ نومولود بہت بڑا مبلغ اسلام بنے گا جس کی تصدیق اس وقت کے ہندو نجومیوں نے بھی کی جس کی بناء پر ہندو راجہ نے انتہاء پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے نومولود کو صحرا میں پھینکوا دیا تاکہ اس کا نام و نشان باقی نہ رہے جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے کے مصداق قدرت الہٰی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ روایت کے مطابق نومولود موذی جانوروں سے محفوظ رہا اور اللہ کی مرضی سے چولستان میں موجود چنن کے درخت کی شاخوں پر جھولتا رہا جبکہ دوسری روایت کے مطابق نومولود کی پرورش ایک غریب لکڑ ہارے جبکہ ایک اور روایت کے مطابق بھیڑیں چرانے والے گڈریے نے کی۔ آپ کو آپ کے حسنِ صورت و سیرت کی وجہ سے چنن پیرؒ کا نام ملا۔ آپ بڑے عالم دین و مبلغ اسلام بنے۔ یہیں پر مدفون ہوئے۔ آپ کے عرس کا آغاز تقریباً 17 سال قبل ہوا اور پہلے خلیفہ درگاہ غلام حسین اور بعد ازاں قاری ابراہیم مرحوم رہے۔ 1956 ء میں محکمہ اوقاف نے اس میلہ اور درگاہ کا انتظام سنبھالا اور موجودہ چک نمبر 49 موضع چنن پیرؒ میں ریت کے ٹیلے پر واقع مزار زائرین کی توجہ کا مرکز ہے جہاں عرس کے موقع پر محکمہ اوقاف لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل کرتا ہے مگر زائرین کی مشکلات جوں کی توں ہیں۔
ابتداء میں لوگ پیدل، اونٹوں، بیل ریڑھوں، سائیکلوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر حاضری دینے آیا کرتے تھے لیکن اب ان کی جگہ موٹر گاڑیوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں وغیرہ نے حاصل کر لی ہے۔ اب بھی کئی عقیدت مند اپنی منتیں اتارنے کے لیے ڈھول کی تھاپ پہ جھومر ڈالتے ہوئے جوق در جوق کئی کئی میل پیدل سفر کر کے پہنچتے ہیں۔ چولستان میں واقع چنن پیرؒ کے مزار پر ماہِ مارچ میں سات جمعراتوں پر مشتمل عظیم الشان تاریخی میلہ لگتا ہے جس میں ثقافتی اور مذہبی رنگ شامل ہوتے ہیں اور بہار کے شروع میں جب چولستان میں خودرو پودے ریتلے میدانوں کو سبز جھال دینا شروع کرتے ہیں تو ایک معروف پودا کترن (چولستان کی وہ خوشبو دار جھاڑی جس کے بارے میں مقامی روہیلوں کا خیال ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے اس سے اپنے ہاتھ پونچھے تھے ) کی خوشبو ہرطرف پھیلتی ہے اور رنگ برنگ پھولوں سے آراستہ خوش نما بوٹیاں اپنے وجود کا جب احساس دلاتی ہیں تو چولستان میں موجود چرند پرند اور علاقہ مکینوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ہندو، مسلمان لوک فنکار بھی اس میلہ میں اپنی عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔ ہندوستان کی ریاستیں جیسلمیر، تھر اور تھل کے علاوہ چولستان کے روہیلے ہزاروں کی تعداد میں ان کے مزار پر حاضری دینے اور منتیں پوری کرنے کے لیے آنے لگے اور اب بھی روہیلے اونٹوں کو سر سے پاؤں تک مکمل زیورات سے آراستہ کر کے قافلوں کی صورت میں اونٹوں کی قطاریں جن کے کجاؤں پر بیٹھی خواتین ثقافتی لباس اور روہی کے زیورات سے مزین کورس کے انداز میں سہرے اور گیت گاتی آتی ہیں۔ آگے ڈھول کی تھاپ پر چپڑیوں سے رقص کرتے نوجوان ہوتے ہیں۔ زیورات کی مسحور کن جھنکار میں یہ قافلے دن رات مزار پر پڑاؤ کرتے ہیں۔ الاؤ جلاتے ہیں، جانور ذبح کرتے ہیں۔ کیمپ فائر کی طرح رات گزارتے ہیں اور پھر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو جاتے ہیں۔
یہاں ہر جمعرات کو عرس کے دوران راتوں رات ایک شہر آباد ہو جاتا ہے چنن پیر کے اس تاریخی میلے میں اونٹوں کا رقص، اونٹوں کی دوڑ، اونٹوں کی لڑائیاں، اونٹوں کے زیورات کی نمائش و خریداری، بیل گاڑی دوڑیں، کشتیاں، کلائی پکڑنا، تیتر بٹیر کی لڑائی، چولستانی رقص و جھومر، چولستانی لباس، زیورات کے علاوہ چولستانیوں کی زندگی سے وابستہ ہر سامان کی خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ یہاں پر عقیدت مند اَپنی منتوں اور مرادوں کی تکمیل کے لیے حاضری دیتے ہیں۔ کھلے آسمان کے تلے یہ مزار جس کے اردگرد کچھ قبرستان اور مزارات بن گئے ہیں وہاں منت پوری کرنے کی آسودگی کے علاوہ میل ملاقات اور مذہبی رسوم کی ادائیگی بھی کی جاتی ہے۔ میلے کا ایک اہم عنصر گھوڑوں کی دوڑیں، کتے اور ریچھوں کی لڑائیاں اور اونٹ کا ڈانس ہے۔ درگاہ سے متصل ایک مسجد بھی ہے تو دوسری طرف ایک اور مزار ہے جو بی بی پردہ پوش کے نام سے موسوم ہے۔ یہاں پر حکومت نے کافی سہولیات پہنچانے کی کوشش کی ہے جن میں پانی کی فراہمی اور بجلی کی سہولیات موجود ہیں۔ تاہم بعض عناصر اس میلے کو تفریحی کی شکل میں زیادہ لیتے ہیں اور یہاں پر جوا اور منشیات کا استعمال بھی دیکھنے میں آتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ چولستان میں واقع اس عظیم الشان ہستی سے فیض یاب ہوا جائے اور چولستانی کلچر کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں اور چولستان کے ثقافتی ورثے کا تحفظ کرنے کے لئے چولستان میں ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور چولستان یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ زائرین کی سہولت کے لئے سرکاری سطح پر سہولیات فراہم کی جائیں اور چولستانی ثقافت، کلچر، دستکاریوں کو انٹرنیشنل سطح پر مارکیٹنگ کرانے کے لئے ورلڈ میڈیا اور سرکاری سطح پر کوشش کی جائے۔


