صحافت کا گلا گھونٹنے کی پاکستان تحریک انصاف کی مہم

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اختلاف رائے اور مخالفت کا اظہار ہمیشہ سے موجود رہا ہے، مگر جب یہ مخالفت تشدد، دھمکیوں اور صحافتی آزادی پر حملوں کی شکل اختیار کر لے تو یہ نہ صرف جمہوری اقدار کی توہین ہے بلکہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے صحافیوں پر حملے اور ان کی تذلیل کی حالیہ مثالیں اسی خطرناک رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔ خاص طور پر اڈیالہ جیل کے باہر صحافی طیب بلوچ پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کا حملہ نہ صرف ایک فرد پر حملہ ہے بلکہ پوری صحافتی برادری اور آزادی اظہار پر حملہ ہے۔ یہ واقعہ پاکستان تحریک انصاف کی اس پرانی پالیسی کا تسلسل ہے جس میں سچ کو دبانے اور مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
طیب بلوچ کی صحافتی ذمہ داری اور بہادری کو سلام پیش کرنا چاہیے۔ وہ ایک ایسے ماحول میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے گئے جہاں انہیں پہلے سے ہی پاکستان تحریک انصاف کے غنڈہ گرد عناصر کی جانب سے خطرات کا اندازہ تھا۔ اس کے باوجود، وہ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے، پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے سخت سوالات پوچھے، جیسے کہ امریکہ میں جائیدادیں کیسے بنائی گئیں؟ اور اپنے کام کو جاری رکھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے نعیم حیدر پنجوتھا کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد ان پر حملہ کیا، انہیں مارا پیٹا، گالیاں دیں اور ان کی تذلیل کی۔ یہ حملہ طیب بلوچ کی دلیری اور پیشہ ورانہ کمٹمنٹ کی گواہی ہے۔ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ تمام صحافیوں کے لیے ایک مثال بن گئے ہیں کہ سچ کی تلاش میں خطرات کا سامنا کیسے کیا جائے۔ طیب بلوچ کی اس جرات اور عظمت کو ہر پاکستانی کو سراہنا چاہیے، کیونکہ وہ صحافت کی روشنی کو اندھیروں سے بچانے والے ایک سپاہی کی مانند ہیں۔
بدقسمتی سے، طیب بلوچ کا واقعہ واحد نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے صحافیوں بالخصوص مرد و خواتین صحافیوں پر حملے اور زیادتیاں ایک طویل سلسلہ ہیں۔ یہ جماعت اقتدار سے پہلے پاکستان ٹیلی ویژن اور متعدد صحافیوں پر حملہ آور ہوئی اور پھر جب اقتدار میں تھی تو بھی صحافیوں کی تذلیل کرتی رہی اور اب اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود یہ رویہ جاری ہے۔ درج ذیل کچھ اہم واقعات اس جماعت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں :
۔ **محسن بیگ**: پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں، محسن بیگ کو ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے گرفتار کیا گیا اور ان پر الزامات لگائے گئے۔ یہ ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح پاکستان تحریک انصاف نے صحافیوں کو دبانے کے لیے ریاستی اداروں کا استعمال کیا۔
۔ **مبشر لقمان**: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں مبشر لقمان کو بھی دھمکیاں ملیں اور ان کی رپورٹنگ پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی۔ انہیں عدالتوں میں گھسیٹا گیا اور ان کی آواز کو خاموش کرنے کی سازش کی گئی۔
۔ **اسد علی طور**: 2021 میں اسد علی طور پر تین نامعلوم افراد نے حملہ کیا، انہیں باندھا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ حملہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ہوا اور صحافیوں کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت پر تھی، مگر اسے نظر انداز کیا گیا۔
۔ **احمد نورانی**: 2018 میں احمد نورانی پر ایک سفاکانہ حملہ ہوا جس میں انہیں شدید زخمی کیا گیا۔ یہ حملہ ان کی تحقیقاتی رپورٹنگ کی وجہ سے تھا اور اسے پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں سے جوڑا جاتا ہے۔
۔ **خواتین صحافیوں پر حملے **: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خواتین صحافیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، 2014 کے دھرنے کے دوران ایک خاتون رپورٹر کو پاکستان تحریک انصاف کارکنوں نے ہراساں کیا اور دھکے دیے۔ حالیہ برسوں میں، غریدہ فاروقی، اور بہت سی دیگر خواتین صحافیوں کو سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے ٹرولز کی جانب سے شدید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں گالیاں دی گئیں، دھمکیاں ملیں اور ان کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا گیا، صرف اس لیے کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ مزید برآں، مئی 2023 کے احتجاجوں کے دوران ڈان نیوز کی ایک خاتون ٹیم کو پاکستان تحریک انصاف کارکنوں نے حملہ کر کے زخمی کیا۔ یہ واقعات پاکستان تحریک انصاف کی خواتین مخالف اور صحافت دشمن ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
۔ **مئی 9 کے فسادات کے دوران**: مئی 2023 میں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجوں کے دوران متعدد صحافیوں پر حملے کیے گئے اور میڈیا آفسز اور ہاؤس کو آگ لگائی گئی۔ پشاور میں ڈان نیوز کی ٹیم پر حملہ اور صحافیوں کو زخمی کرنا، ریڈیو پاکستان پشاور کو آگ لگانا اس کی واضح مثالیں ہیں۔
یہ تمام واقعات پاکستان تحریک انصاف کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں سچ کو دبانے کے لیے تشدد اور دھونس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جماعت آزادی اظہار کے نعرے تو لگاتی ہے، مگر جب خود تنقید کا سامنا کرتی ہے تو صحافیوں کو غنڈوں سے پٹواتی ہے۔
آخر میں بطور کالم نگار میری پاکستان تحریک انصاف کی قیادت، بالخصوص عمران خان، علیمہ خان اور دیگر رہنماؤں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو تہذیب اور اخلاق کا درس ضرور دیں۔ سیاست میں مخالفت ہو سکتی ہے، مگر یہ تہذیب کے دائرے میں رہنی چاہیے۔ تشدد، گالیاں، دھمکیاں اور صحافیوں پر حملے ایک مثبت اور تعمیری معاشرے کی تشکیل میں رکاوٹ ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کو چاہیے کہ اپنے کارکنوں کو اخلاقی تربیت دے، آزادی صحافت کا احترام کرے اور اختلاف رائے کو برداشت کرنا سیکھے۔ صرف اسی صورت میں ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں سچ کی روشنی سے اندھیرے دور ہوں اور جمہوریت مضبوط ہو۔ اگر پاکستان تحریک انصاف یہ سبق نہ سیکھے تو یہ خود اپنی سیاست کی لاش کو گالیاں اور پروپیگنڈے سے زندہ رکھنے کی ناکام کوشش کرتی رہے گی، مگر عوام کے سامنے بے نقاب ہو کر رہے گی۔ صحافت زندہ باد، آزادی اظہار زندہ باد!
