بوسیدہ نوٹ اور گلی ہوئی لاش
ایک سینئر اداکارہ کی ہفتہ بھر پرانی لاش اور ایک دوسری اداکارہ کی مہینہ بھر یا مزید پرانی لاش کی دریافت ہونے کے بارے میں خبروں کے بعد کچھ عبرتناک اور بعض حیرت ناک اور چندے اذیت ناک قسم کے بھی تبصرے جاری ہیں، جو زیادہ تر کسی نئے واقعے یا معاملے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ تاہم ہم اس وقت ان دونوں مرحوم خواتین کے بارے میں نہیں، بلکہ اس شخص کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں جو اسی طرح لاوارثی میں فوت ہوا تھا کہ اس کی لاش بھی تعفن اٹھنے کے بعد دریافت ہوئی۔ لیکن چونکہ وہ ایک غریب مزدور رنگ ساز تھا، اس لیے اخبارات میں اس کی دلخراش موت کے بارے میں کچھ بھی نہیں شائع نہ ہو سکا۔ نہ ہی میڈیا یا سوشل میڈیا پر ہم نے اس کا کوئی ذکر دیکھا۔
یہ واقعہ تقریباً چار یا پانچ سال پرانا ہو گا۔ اس وقت ہم لیاری کے ایک علاقے میں ایک چھوٹی سی دکان پر، جو ایک مسجد کی ملکیت تھی، پرانی کتابیں فروخت، ان کا تبادلہ اور کرائے پر جاری کیا کرتے تھے۔ اور مذکورہ رنگ ساز ہماری دکان کے سامنے ایک اسکول کی چار دیواری کے پاس بیٹھ کر ”مزدوری لگنے“ کا منتظر رہتا تھا۔ وہاں کئی دوسرے رنگ ساز اور مختلف قسم کے مزدور بھی روزگار کے لیے بیٹھتے تھے۔ کچھ کو روزگار مل جاتا تھا، جبکہ کچھ لوگ پورا دن بیٹھ بیٹھ کر گھر لوٹ جاتے تھے۔ مذکورہ مزدور کبھی کبھار ہمارے پاس بھی آ کر گپ شپ بھی کرتا رہتا تھا۔
اس کا سواری کا ذریعہ بھی، ہماری طرح، ایک پرانی سائیکل تھی۔ جیسا وہ خود دھان پان سا تھا، ویسی ہی اس کی سائیکل بھی ہمیں یاد پڑتی ہے۔
باتوں ہی باتوں میں اس نے ایک دن ہمیں بتایا کہ وہ صاحب اولاد ہے اور گھر والوں سے، یا شاید گھر والی سے، بلکہ زیادہ تر گھر والی سے ناراض ہے اور کہیں تنہا رہتا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ کو قصور وار گردانتا تھا کہ اس کا رویہ اس کے ساتھ مناسب نہیں، لیکن ظاہر کہ یہ ایک یک طرفہ بات تھی جس سلسلے میں فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ واقعی بیوی قصور وار تھی یا مدعی کا بھی کوئی قصور یا خطا تھی؟
بہرحال، ایک بار اس نے ہمیں بتایا کہ اس کا ایک بیٹا اس کے ساتھ رابطے میں ہے، اور پھر اس نے بٹوے جیسی کسی چیز میں، یا شاید کسی لفافے میں لپٹے ہوئے، پانچ ہزار کا بوسیدہ سا تعویذ کی طرح دوہرا تہرا نوٹ ہمیں دکھایا کہ یہ اس کے بیٹے نے اسے دیا تھا۔ نوٹ کی بوسیدگی اور گلی سڑی حالت سے ہمیں اندازہ ہوا کہ بیٹے سے ملاقات کو بھی کافی وقت گزر چکا ہو گا!
اس واقعے کے بعد بھی اس سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور باتیں بھی۔ یاد نہیں کہ اس سارے قصے کو کتنا وقت گزر گیا۔ مذکورہ مزدور اکثر غیر حاضریاں بھی کرتا رہتا تھا۔ سو نہ ہم نے اور نہ ہی کسی اور نے اس کی غیر حاضری کو زیادہ محسوس کیا۔ البتہ ایک دن کسی دوسرے مزدور نے بتایا کہ مذکورہ رنگ ساز انتقال کر گیا۔ اور اس کی موت کی خبر تب ہوئی سکی جب اس کی لاش سے تعفن اٹھنے لگا۔
خبر سن کر افسوس ہوا۔ یہ توہم جانتے ہیں کہ موت ہم سب کا مقدر ہے :
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
تاہم یہ علم نہ تھا کہ اس کی موت ان حالات میں ہوگی اور اس کی لاش اس کے بیٹے کے دیے گئے نوٹ کی طرح گل جانے کے بعد دریافت کی جائے گی!
افسوس ہوا کہ وہ اپنی ضد کی بھینٹ چڑھ گیا یا کسی رشتے دار کی؟
ہمارے آس پاس آج بھی ایک دوسرے سے ناراض اور رنجیدہ لوگ موجود ہیں۔ کسی سے ہم ناراض ہیں اور کوئی ہم سے ناخوش ہے۔
افسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی حادثے یا سانحے سے پہلے ایک دوسرے سے صلح کیوں نہیں کر لیتے؟
مفاہمت پر کیوں آمادہ نہیں ہوتے؟
کندھا دینے سے پہلے گلے کیوں نہیں لگا لیتے؟

