میرے مطابق

ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ایک نشست

abdul waheed khan

ماہِ اگست کے آخری روز برٹش پاکستانی فورم یوکے (آفیشل) کے صدر پروفیسر نوید انجم باجوہ کی ذاتی دعوت پر پاکستان عوامی تحریک اور ادارہ منہاج القرآن کے بانی سربراہ، معروف مذہبی سکالر، علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری جو لندن آئے ہوئے تھے سے ایسٹ لندن میں الفرڈ لین کے ایک مقامی ریستوران میں کھانے پر برٹش پاکستانی فورم یوکے آفیشل کے جملہ عہدیداران، قائداعظم ٹرسٹ کے چیئرمین راجہ محمد اشتیاق و عہدیداران کی ایک مشترکہ ملاقات طے تھی جس کے لئے نوید انجم باجوہ نے دو دن پہلے ہی تمام دوستوں کو فرداً فرداً فون کر کے آگاہ کر دیا تھا اور ہمارا قافلہ جس میں راجہ محمد اشتیاق، چوہدری صغیر حسین، پروفیسر نوید انجم باجوہ، برطانیہ کے نجی دورے پر آئے ہوئے چوہدری محمد نعیم گجر ایڈووکیٹ صدر بار ایسوسی ایشن اسلام آباد، عبدالوحید خان، رب نواز چغتائی، چوہدری ایم افضل گجر، راجہ محمد ندیم، سردار خان چوہان، کلیم اللہ سدھو، راجہ محمد نعیم آف مندرہ اور راجہ ریاست علی شامل تھے لندن جاتے ہوئے پہلے کیمبرج شہر کے قبرستان میں مدفون تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما اور لفظِ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی کی آخری آرام گاہ پر حاضری اور فاتحہ خوانی کے لئے رکا جس کے بعد کیمبرج کی مرکزی جامع مسجد جو اپنے منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے میں ظہر کی نماز ادا کی گئی اور مسجد کا تفصیلی مشاہدہ کیا گیا۔

برمنگھم سے روانگی کے وقت موسلادھار بارش ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ہمارے دوست سوشل میڈیا ایکٹوسٹ و زیڈ ایم سی چینل سے وابستہ چوہدری محمد افضل گجر کو فکر دامن گیر تھی کہ موسم ایسا ہی رہا تو فوٹوگرافی اور وڈیوگرافی متاثر ہو گی لیکن موٹروے پر کیمبرج سے پہلے ہی بارش رک گئی تھی اور کیمبرج پہنچے تو موسم کافی بہتر ہو چکا تھا لیکن موسم تھوڑا گرم تھا۔

نمازِ ظہر کے بعد کیمبرج سے الفرڈ لندن کے لئے روانہ ہوئے تو دھوپ خوب چمک رہی تھی اور لندن پہنچ کر مقامی ریستوران میں علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور ان کے رفقائے کار کا زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑا کہ وہ ساڑھے چار بجے کے لگ بھگ منہاج القرآن انٹرنیشنل یوکے کے انچارج سید علی عباس بخاری و دیگر معاونین کے ہمراہ وہاں تشریف لے آئے جہاں انہوں نے پچھلی گاڑی میں تشریف لانے والے السید طاہر حسام الدین القادری الگیلانی کا آگے بڑھ کر خود استقبال کیا اور سب سے تعارف کروایا کہ یہ ان کے مرشد جن کا وہ اکثر اپنے بیانات میں ذکر کرتے رہے ہیں کے پوتے ہیں جو ریستوران میں ان کے ہمراہ بائیں جانب سارا وقت خاموشی سے تشریف فرما رہے۔

چونکہ یہ ایک غیر رسمی ملاقات تھی جس میں تمام شرکا نے ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد پر ریستوران کے باہر ان سے مصافحہ کیا اور ساتھ موجود راجہ محمد اشتیاق اور نوید انجم باجوہ تمام دوستوں کا تعارف بھی کراتے رہے۔ ریستوران میں عام کسٹمرز بھی موجود تھے جن میں سے کئی ایک اپنی نشستوں سے اٹھ کر ڈاکٹر طاہر القادری سے مصافحہ اور گفتگو کرتے رہے اور ان کی جملہ خدمات کی تعریف کی۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے شرکا سے آف دی ریکارڈ گفتگو کی اور اپنے بچپن و زمانہ طالب علمی کے کئی واقعات سنائے۔ انہوں نے قرآن مجید کا کچھ سال پہلے انگلش میں جو ترجمہ کیا ہے The Manifest Quran کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں تفصیلاً آگاہ کیا کہ اس کے لئے انہیں چند سال مسلسل بہت باریک بینی سے تحقیقی اور علمی کام کرنا پڑا تو یہ ترجمہ قرآن کا کام مکمل ہو سکا جو اپنی نوعیت کا منفرد کام ہے کہ جس میں بامحاورہ ترجمہ اور ہر آیت کی شانِ نزول بیان کی گئی ہے۔

پروفیسر نوید انجم باجوہ نے ملاقات کے لئے وقت دینے پر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا شکریہ ادا کیا اور ان سے ملاقات کو اپنی خوش نصیبی گردانا۔ نوید باجوہ نے انہیں دو صدیوں کا مجدد قرار دیا اور ان کے جملہ تصنیف و تالیف اور مذہبی کام کی زبردست تعریف کی۔

راجہ محمد اشتیاق نے منہاج القرآن کی سرگرمیوں کی تعریف کرتے ہوئے اپنے کچھ سال پہلے دورہ پاکستان کے دوران لاہور میں منہاج القرآن ہیڈ آفس کے وزٹ کے اپنے تاثرات، مشاہدات اور تجربات بیان کیے۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف دینی تعلیم کے حوالے سے بلکہ ہر شعبہ زندگی کے حوالے سے منہاج القرآن میں جو تعلیم دی جا رہی ہے اور وہاں سے فارغ التحصیل طلبا و طالبات اپنی مثال آپ ہیں جو حقیقتاً نظامِ مصطفیٰ کے نفاذ کی صورت میں ملک کا نظم و نسق چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ راجہ اشتیاق نے کہا کہ وہاں صرف بارہ کے لگ بھگ تو میڈیا سنٹر ہیں اور نوجوان بچے اور بچیاں الگ الگ بہترین تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ مستقبل کے لیڈر تیار ہو رہے ہیں۔

اس موقع پر سردار خان گجر آف چوہان لالہ موسیٰ نے اپنے آبائی علاقے میں کالج کے لئے زمین دینے کا اعلان کیا اور ڈاکٹر طاہر القادری سے درخواست کی کہ وہاں پر ادارہ منہاج القرآن بچیوں کا کالج بنائے جس پر ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی ٹیم کے متعلقہ لوگوں تک معاملہ پہنچانے اور ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کیں۔

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم گجر نے ڈاکٹر طاہر القادری کی جملہ خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور پاکستان عوامی تحریک کے اسلام آباد میں موجود وکلاء دوستوں سے وڈیو کال پر ڈاکٹر طاہر القادری کی بات بھی کروائی۔

اس موقع پر رب نواز چغتائی، چوہدری افضل گجر، عبدالوحید خان، کلیم اللہ سدھو، اور دیگر شرکا نے بھی اظہارِ خیال کیا اور ڈاکٹر طاہر القادری کی جملہ علمی، تحقیقی اور تصنیف و تالیف کے ضمن میں اسلام کی ترقی و ترویج کے لئے خدمات کی تعریف کی۔

شرکا نے ڈاکٹر طاہر القادری کو پڑدادا بننے کی مبارکباد دی اور فرداً فرداً مختلف شرکا نے اپنے اور اپنے عزیز و اقارب و دوست احباب کے لئے دعاوٴں کی درخواست بھی کی جس پر ملاقات کے اختتام سے قبل ڈاکٹر طاہر القادری اور السید طاہر حسام الدین القادری الگیلانی نے تمام شرکا و وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لئے اجتماعی دعا کروائی اور تمام شرکا نے ریستوران سے باہر نکل کر ان سے الوداعی مصافحہ کیا اور تقریباً ڈھائی گھنٹے کی یہ نشست ایک یادگار خوبصورت ملاقات، کھانے، سوالات و جوابات اور دعاوٴں کی یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW