وہ سوال جو نہیں بدلا
حال ہی میں مجھے (مرحوم ) ڈاکٹر جمیل جالبی کی شہرۂ آفاق تصنیف ”پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ“ کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک تقریب میں اظہارِ خیال کی دعوت ملی۔ اس موقع پر اس کتاب کو ایک بار پھر پڑھنے اور اس کے بنیادی مباحث پر غور کرنے کا موقع ملا تو شدت سے یہ احساس ہوا کہ کتابوں کی بھی اپنی تقدیر ہوتی ہے۔ کچھ کتابیں اپنے عہد کے کسی خاص مسئلے، بحث یا فکری ضرورت کے جواب میں لکھی جاتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ تاریخی دستاویز بن جاتی ہیں۔ لیکن کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد سے آگے نکل جاتی ہیں۔ وہ صرف اپنے زمانے کے سوالوں کا جواب نہیں دیتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے سامنے نئے سوالات بھی رکھتی رہتی ہیں۔ یہ کتاب بلاشبہ اسی دوسری قسم سے تعلق رکھتی ہے۔
1964 ء میں پہلی مرتبہ شائع ہونے والی یہ کتاب آج ساٹھ برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود حیرت انگیز طور پر تازہ محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستان ساٹھ برس میں تبدیل نہیں ہوا۔ پاکستان یقیناً بہت بدل چکا ہے۔ ہماری سیاست بدلی، معیشت بدلی، شہری زندگی بدلی، ذرائع ابلاغ بدل گئے، تعلیم کے انداز تبدیل ہوئے، دنیا سمٹ کر موبائل فون کی اسکرین تک آ پہنچی اور اب مصنوعی ذہانت ہماری علمی، سماجی اور تہذیبی زندگی کے نئے سوالات پیدا کر رہی ہے۔ لیکن جمیل جالبی نے جس بنیادی سوال کو موضوع بنایا تھا، وہ آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے : پاکستانی ہونے کا تہذیبی اور ثقافتی مفہوم کیا ہے، اور کیا ہم اپنی تمام تر علاقائی، لسانی اور مذہبی رنگارنگی کے باوجود ایک مشترکہ قومی شعور پیدا کر سکے ہیں؟
میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کے لیے جمیل جالبی محض ایک ادیب، نقاد یا محقق کا نام نہیں تھا بلکہ ایک پورا علمی ادارہ تھے۔ جب میں 1986 ء کی دہائی کے وسط میں جامعہ کراچی میں ایک طالب علم کی حیثیت سے داخل ہوا تو جمیل جالبی کا نام ایک خاص علمی وقار اور ہیبت رکھتا تھا۔ ان کی شخصیت علم، تحقیق، زبان، ادب اور جامعہ کی فکری روایت کی علامت محسوس ہوتی تھی۔ میری اپنی علمی زندگی مجھے ادب کے بجائے طبیعیات کی طرف لے گئی۔ تجربہ گاہ، تدریس، تحقیق اور سائنس میری پیشہ ورانہ زندگی کا محور بن گئے۔ لیکن تقریباً چار دہائیوں کی تدریس، تحقیق اور جامعاتی زندگی کے بعد جب میں نے جالبی صاحب کی اس کتاب کی طرف دوبارہ رجوع کیا تو ایک دلچسپ احساس ہوا: کتاب وہی تھی، مگر قاری بدل چکا تھا۔
شاید بڑی کتاب کی ایک پہچان یہی ہوتی ہے کہ عمر کے مختلف مراحل میں وہ ہمیں مختلف انداز سے مخاطب کرتی ہے۔ نوجوانی میں جس عبارت میں نظریہ دکھائی دیتا ہے، تجربے کے بعد اسی میں معاشرے کی پوری تصویر نظر آنے لگتی ہے۔ تدریس کے طویل تجربے، طلبہ کی کئی نسلوں سے مکالمے اور ہمارے اداروں کے عروج و زوال کو قریب سے دیکھنے کے بعد جمیل جالبی کے سوالات میرے لیے محض ادبی یا ثقافتی سوالات نہیں رہے ؛ وہ تعلیم، ریاست، سائنس، اخلاقیات اور اجتماعی کردار کے سوالات بن گئے۔
جمیل جالبی صاحب کی فکر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کلچر کو محض لوک روایت یا تفریحی سرگرمی نہیں سمجھتے۔ ہمارے ہاں کلچر کا ذکر ہو تو ذہن فوراً موسیقی، علاقائی رقص، کھانوں، دستکاری، لباس، میلوں، تہواروں اور لوک روایات کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہ سب یقیناً ثقافت کے اہم مظاہر ہیں، لیکن ثقافت ان تک محدود نہیں۔
ثقافت دراصل کسی معاشرے کی اجتماعی روح اور اخلاقی لغت ہے۔ ہم کس زبان میں سوچتے ہیں، بچوں کو کیا پڑھاتے ہیں، اختلاف کرنے والے سے کیسے پیش آتے ہیں، کمزور کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہے، قانون کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، علم اور اہلِ علم کی کتنی قدر کرتے ہیں، عورت کو معاشرے میں کیا مقام دیتے ہیں، اقلیت کے حقوق کو کس طرح سمجھتے ہیں، طاقت کے استعمال کو کس حد تک جائز قرار دیتے ہیں اور سچ اور جھوٹ کے درمیان کس اصول پر فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ سب ثقافت کے سوالات ہیں۔
اسی لیے کسی قوم کی ثقافت صرف اس کے عجائب گھروں اور تہواروں میں نہیں دیکھی جا سکتی۔ اسے اس کے اسکول، جامعات، عدالتیں، پارلیمان، ذرائع ابلاغ، بازار، سرکاری دفاتر اور روزمرہ سماجی رویے بھی ظاہر کرتے ہیں۔ ہم سڑک پر قانون کی کتنی پابندی کرتے ہیں، قطار میں اپنی باری کا کتنا احترام کرتے ہیں، کسی کمزور شخص کے حق کو کس حد تک تسلیم کرتے ہیں اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روک سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ سب ہمارے قومی کلچر کے آئینے ہیں۔
یہیں سے کتاب کا ایک نہایت بنیادی سوال سامنے آتا ہے : کیا مشترکہ شہری اور تہذیبی شعور کے بغیر کوئی ریاست حقیقی معنوں میں ایک قوم بن سکتی ہے؟
پاکستان کبھی ثقافتی تنوع سے محروم نہیں رہا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تنوع ہماری سب سے بڑی تہذیبی دولتوں میں سے ایک ہے۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور ملک کے دوسرے علاقوں کی اپنی زبانیں، روایات، شاعری، موسیقی، تاریخ اور اجتماعی یادداشتیں ہیں۔ سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی، براہوی، سرائیکی اور دوسری زبانیں پاکستان کی تہذیبی ثروت ہیں۔ مسئلہ یہ کبھی نہیں تھا کہ ہمارے درمیان اختلاف اور تنوع کیوں ہے۔ اصل مسئلہ یہ تھا، اور آج بھی ہے، کہ ہم اس تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ پاکستانی شعور کیسے پیدا کریں؟
قومی یکجہتی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام زبانیں ایک زبان میں ضم ہو جائیں، تمام علاقائی شناختیں ختم کر دی جائیں یا سب لوگ ایک ہی انداز سے سوچنے لگیں۔ ایسی یکسانیت نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب۔ اصل قومی ثقافت وہ ہے جو اختلاف کو مٹاتی نہیں بلکہ اسے ایک وسیع تر مشترکہ شناخت میں جگہ دیتی ہے۔
ایک سندھی کو اپنی سندھی شناخت پر فخر کرتے ہوئے پاکستانی ہونے میں کوئی تضاد محسوس نہ ہو؛ ایک بلوچ اپنی تاریخ اور زبان سے محبت کرتے ہوئے قومی دھارے سے خود کو الگ نہ سمجھے ؛ ایک پشتون، پنجابی، سرائیکی یا کسی بھی دوسرے خطے سے تعلق رکھنے والا شہری اپنی علاقائی شناخت اور پاکستانی شہریت کو ایک دوسرے کا حریف نہ سمجھے۔ یہی وہ تہذیبی ہم آہنگی ہے جس کی تلاش جمیل جالبی کے سوال میں پوشیدہ ہے۔
افسوس یہ ہے کہ چھ دہائیوں بعد بھی یہ سوال پوری طرح حل نہیں ہوا۔ ہماری سیاسی تقسیم گہری ہوئی ہے۔ نسلی، لسانی اور علاقائی شناختیں بعض اوقات سیاسی کشمکش کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا نے اظہار کے مواقع تو بے پناہ بڑھائے ہیں لیکن ساتھ ہی معاشرے کو چھوٹے چھوٹے فکری جزیروں میں بھی تقسیم کر دیا ہے۔ ہم اکثر صرف انہی آوازوں کو سنتے ہیں جو پہلے سے ہمارے خیالات کی تائید کرتی ہیں۔ اختلاف کو سننے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے اور مکالمے کی جگہ فوری ردعمل، الزام اور کردار کشی لے رہے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنی مشترکہ بنیاد مضبوط کرنے کے بجائے اپنے اختلافات کے دفاع میں زیادہ توانائی صرف کر رہے ہیں۔
یہاں جمیل جالبی صاحب کی کتاب جامعات اور تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک نہایت اہم سبق رکھتی ہے۔ قومی شناخت نعروں، سرکاری مہمات یا رسمی تقاریب سے پیدا نہیں ہوتی؛ اس کی تعمیر تعلیم سے ہوتی ہے۔ اور ایسی تعلیم سے جو سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، نہ کہ صرف اطاعت؛ جو تجسس کو فروغ دے، نہ کہ ذہنی جمود کو ؛ جو دلیل کی تربیت کرے، نہ کہ محض یادداشت کا امتحان لے۔
ایک استاد کی حیثیت سے میں طویل عرصے سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ تعلیم کا مقصد صرف کامیاب امیدوار پیدا کرنا نہیں بلکہ باشعور شہری پیدا کرنا ہے۔ اگر ہمارا طالب علم نصابی کتاب کے تمام جوابات یاد کر لے لیکن سوال پوچھنے کی صلاحیت کھو دے تو ہم نے شاید اسے امتحان کے لیے تیار کیا ہے، زندگی کے لیے نہیں۔
جامعہ کا اصل حسن ہی سوال میں ہے۔ ایک زندہ جامعہ وہ نہیں جہاں ہر شخص ایک ہی بات کہتا ہو؛ بلکہ وہ ہے جہاں مختلف آرا دلیل، احترام اور علمی دیانت کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے آ سکیں۔ استاد کا کام طالب علم کو اپنی رائے کا تابع بنانا نہیں بلکہ اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی رائے دلیل کے ساتھ قائم کر سکے اور ضرورت پڑنے پر بہتر دلیل کے سامنے اسے تبدیل کرنے کا حوصلہ بھی رکھے۔
اسی معنی میں جمیل جالبی صاحب کا تصورِ ثقافت کلاس روم سے شروع ہوتا ہے۔ جو معاشرہ سوال کرنے والے طالب علم سے خوف زدہ ہو، وہ تحقیق کرنے والا سائنس دان، آزاد ذہن رکھنے والا ادیب اور جواب دہی طلب کرنے والا شہری کیسے پیدا کرے گا؟
میرے لیے اس کتاب کا شاید سب سے دلچسپ پہلو اسے ایک طبیعیات دان کی نظر سے پڑھنا تھا۔ بظاہر سائنس اور ثقافت دو الگ دنیائیں محسوس ہوتی ہیں۔ ایک طرف تجربہ، پیمائش، مساوات اور طبیعی قوانین ہیں ؛ دوسری طرف ادب، اخلاق، تاریخ اور انسانی اقدار۔ لیکن انسانی تہذیب کے بڑے سوالات پر یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں رہ سکتے۔
سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ؛ ثقافت اور اخلاقیات ہمیں یہ طے کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ یہ فرق آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
انسان نے ایٹم کو تقسیم کرنا سیکھ لیا، مگر اس علم کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے یا تباہی کے لیے، یہ فیصلہ طبیعیات نہیں کرتی۔ بائیو ٹیکنالوجی انسانی زندگی میں حیرت انگیز مداخلت کی صلاحیت پیدا کر رہی ہے، لیکن اس صلاحیت کی اخلاقی حدود کہاں ہونی چاہئیں، اس کا جواب صرف تجربہ گاہ نہیں دے سکتی۔ مصنوعی ذہانت ہمارے کام، تعلیم، صحافت، طب، تحقیق اور شاید انسانی تعلقات تک تبدیل کر رہی ہے، لیکن AI ہمیں یہ نہیں بتائے گی کہ انسان ہونے کا مفہوم کیا ہے۔
ٹیکنالوجی ہمیں طاقت دیتی ہے ؛ ثقافت اس طاقت کو سمت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی معاشرہ تکنیکی اعتبار سے انتہائی ترقی یافتہ اور اخلاقی اعتبار سے شدید پسماندہ ہو سکتا ہے۔ بلند عمارتیں، جدید شاہراہیں، تیز رفتار انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت کسی معاشرے کو خود بخود مہذب نہیں بنا دیتے۔ تہذیب کا اصل امتحان یہ ہے کہ طاقت کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، کمزور کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، اختلاف کی کتنی گنجائش ہے اور علم کو آزادی حاصل ہے یا نہیں۔
جمیل جالبی صاحب کے بنیادی استدلال کی معنویت یہاں اور بڑھ جاتی ہے : مادی ترقی، فکری آزادی اور اخلاقی ذمہ داری سے جدا ہو جائے تو ایک صحت مند تہذیب پیدا نہیں کر سکتی۔
یقیناً اس کتاب کے بعض مباحث پر 1960 ء کی دہائی کے تاریخی حالات کی چھاپ موجود ہے۔ یہ فطری بات ہے۔ جمیل جالبی جس پاکستان کو دیکھ رہے تھے، وہ آج کے پاکستان سے بہت مختلف تھا۔ نہ انٹرنیٹ تھا، نہ سوشل میڈیا، نہ ڈیجیٹل ابلاغ، نہ مصنوعی ذہانت اور نہ انفارمیشن اکانومی کی موجودہ صورت۔
اگر وہ آج یہ کتاب لکھتے تو شاید انہیں ایک اور سوال شامل کرنا پڑتا: ڈیجیٹل عہد میں پاکستانی ثقافت کی تشکیل کون کر رہا ہے؟ کیا خاندان؟ کیا تعلیمی ادارے، کیا ریاست، کیا ادب؟ یا پھر الگورتھم؟
آج ایک نوجوان کے ذہن پر اس کے استاد سے کہیں زیادہ اثر بعض اوقات اس کے موبائل فون کی اسکرین ڈال رہی ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، وائرل بیانیہ اور الگورتھم کے ذریعے منتخب مواد اس کی سیاسی، سماجی اور حتیٰ کہ اخلاقی ترجیحات تشکیل دے سکتا ہے۔ مکالمے کے بجائے تصدیقِ نے تعصب کو آسان بنا دیا ہے۔ ہم وہی دیکھتے اور سنتے ہیں جو ہمیں پہلے سے درست محسوس ہوتا ہے۔
اس ماحول میں جمیل جالبی صاحب کا مشترکہ قومی شعور کا سوال اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجود کتاب کا بنیادی استدلال اپنی جگہ قائم ہے۔ شاید آج یہ سوال مزید شدت سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا ہمارے ادارے اعتماد، انصاف اور مشترکہ مقصد پیدا کر رہے ہیں، یا محض ہماری تقسیم کو سنبھال رہے ہیں؟
ریاست اور معاشرے کا تعلق صرف آئین کی دفعات سے قائم نہیں رہتا۔ آئین ناگزیر ہے، قانون ضروری ہے، معیشت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، انفراسٹرکچر بھی چاہیے ؛ لیکن قومیں صرف سڑکوں، پلوں، عمارتوں، زرِمبادلہ کے ذخائر اور شرحِ نمو سے قائم نہیں رہتیں۔
قومیں اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔
شہری کو یقین ہونا چاہیے کہ قانون اس کے لیے بھی وہی ہے جو طاقت ور کے لیے ہے۔ طالب علم کو یقین ہونا چاہیے کہ محنت اسے آگے لے جا سکتی ہے۔ استاد کو یقین ہونا چاہیے کہ علم کی قدر ہوگی۔ کمزور شہری کو یقین ہونا چاہیے کہ ریاست اسے تنہا نہیں چھوڑے گی۔ مختلف زبان، مذہب یا علاقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو یقین ہونا چاہیے کہ اس کی شناخت اس کی شہریت کو کم نہیں کرتی۔
جب یہ اعتماد کمزور پڑتا ہے تو قومی ثقافت بھی کمزور ہوتی ہے۔
اسی لیے ممکن ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ محض معاشی، سیاسی یا تکنیکی نہ ہو۔ اس کی نوعیت کہیں زیادہ گہری ہے۔ یہ ایک تہذیبی اور فکری مسئلہ بھی ہے۔
ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم کس قسم کا معاشرہ بننا چاہتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں کامیابی کا معیار صرف دولت اور طاقت ہو، یا ایسا جہاں علم، کردار اور خدمت بھی سماجی وقار کا ذریعہ ہوں؟ ایسا معاشرہ جہاں اختلاف کرنے والا دشمن تصور ہو، یا ایسا جہاں اختلاف فکری ترقی کا وسیلہ بن سکے؟ ایسا معاشرہ جہاں تعلیم صرف ملازمت کا راستہ ہو، یا ایسا جہاں تعلیم انسان کو بہتر شہری بھی بنائے؟
یہ سوال دراصل جمیل جالبی کے سوال ہی کی نئی صورتیں ہیں۔
ساٹھ برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ”پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ“ کی اہمیت اسی لیے برقرار ہے کہ یہ ہمیں کوئی آسان نسخہ نہیں دیتی بلکہ آئینہ دکھاتی ہے۔ بڑی کتاب شاید یہی کرتی ہے۔ وہ قاری کو مطمئن نہیں کرتی، اسے بے چین کرتی ہے۔ وہ صرف جواب نہیں دیتی، سوال کو زیادہ گہرا کر دیتی ہے۔ اور شاید آج ہمیں اسی فکری بے چینی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ہمیں دوبارہ پوچھنا ہو گا کہ پاکستانی ہونا محض پاسپورٹ، شناختی کارڈ یا جغرافیائی وابستگی کا نام ہے، یا اس کے ساتھ کوئی مشترکہ اخلاقی ذمہ داری بھی وابستہ ہے؟ کیا ہم ایک ایسا قومی کلچر پیدا کر سکتے ہیں جس میں ہماری علاقائی شناختیں محفوظ رہیں مگر مشترکہ شہری اقدار بھی مضبوط ہوں؟ کیا ہماری تعلیم ایسے انسان پیدا کر سکتی ہے جو اپنی تاریخ سے واقف، اپنی ثقافت سے جڑے ہوئے، جدید علم سے آراستہ اور اختلاف برداشت کرنے کے قابل ہوں؟ کیا ہماری سائنس انسانی فلاح کے اخلاقی شعور کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے؟ اور کیا ہمارے ادارے شہریوں میں وہ اعتماد پیدا کر سکتے ہیں جس کے بغیر کوئی قوم دیرپا طور پر مستحکم نہیں رہ سکتی؟ اس کتاب کا سب سے بڑا کمال شاید یہی ہے کہ ساٹھ برس بعد بھی ہم اسے بند کر کے مطمئن نہیں ہو سکتے۔
کتاب ختم ہو جاتی ہے، سوال باقی رہتا ہے۔ اور وہ سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستانی کلچر کیا ہے؟ اس سے کہیں زیادہ اہم سوال یہ ہے :ہم کس قسم کے پاکستانی معاشرے کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں؟
شاید اسی سوال کے جواب میں ہمارے قومی مستقبل کی سمت بھی پوشیدہ ہے۔ کیونکہ ریاستیں سرحدوں سے قائم ہوتی ہیں، مگر قومیں مشترکہ یادداشت، مشترکہ اقدار، باہمی اعتماد اور ایک مشترکہ مستقبل کے تصور سے بنتی ہیں۔
اسی اعتبار سے ڈاکٹر جمیل جالبی کی ساٹھ برس پرانی کتاب آج بھی محض ماضی کی ایک اہم تصنیف نہیں۔ یہ ہمارے حال کا آئینہ اور مستقبل سے متعلق ایک سنجیدہ سوال ہے۔
کتاب ساٹھ برس پرانی ہے، مگر اس کا سوال آج بھی جوان ہے۔ کیا ہم ایک ریاست سے آگے بڑھ کر حقیقی معنوں میں ایک قوم بن سکے ہیں؟

