اقبال اور جناح کی عظمت کو بھارتی سکالر کا خراجِ تحسین

بھارت سے ایسے تجربے اور تجزیے بہت کم لکھے جاتے ہیں جس میں دو قومی نظریے کی طاقت اور حقیقت تسلیم کی گئی ہو۔ بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد بھارتی مسلمانوں نے تقسیمِ ہند کی ابدیت مانتے ہوئے علامہ اقبال اور محمد علی جناح کے خیالات کو اَپنے وقت کا سب سے بڑا منصفانہ حل قرار دِیا۔ یہ خراجِ تحسین ایک ایسے شخص نے پیش کیا جس کا تعلق ایک متوسط سیاسی گھرانے سے ہے اور اُس نے ممبئی سے آئی آئی ٹی گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ مودی فسطایت کے خلاف چٹان کی طرح ڈٹا ہوا ہے اور پانچ سال سے جیل کاٹ رہا ہے۔
مَیں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے پرنسپل ڈاکٹر امان اللہ کا شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے شرجیل امام کا تازہ ترین مضمون ارسال کیا جسے پڑھ کر مجھے طمانیتِ قلب میسّر آئی اور میرے اُس درد میں بھی افاقہ محسوس ہوا جو 8 ؍اگست کی صبح میرے بستر سے گر جانے کی وجہ سے میری گردن میں شدت سے پیدا ہو گیا تھا۔
شرجیل امام اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے ابتدائی برسوں میں شاہین باغ کے احتجاج اور توحید پر ایمان کیسے برقرار رکھا۔ اِسی دوران مجھے اسلامی جدیدیت اور اِس کے علماء جیسے جمال الدین افغانی اور محمد عبدہ مصر کا طالبِ علم ہونے کا موقع ملا۔ ہمارے اپنے اکبر الہ آبادی، علامہ اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد اَور اِیرانی انقلابی علی شریعتی نے سیاست اور اِسلام کے بارے میں میری سمجھ تشکیل دی۔ اِسی شعور نے مجھے انجینئرنگ گریجویٹ کے طور پر اسلام اور تاریخ کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دی۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ محمد علی جناح نہیں بلکہ جواہر لعل نہرو تھے جنہوں نے 1946 ء کے کیبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کیا جب اِس پر تمام جماعتوں کا اتفاقِ رائے ہو گیا تھا۔ قائدِاعظم اقتدار کی وقعت، اقلیتوں اور دُوسری برادریوں کے حقوق کے بارے میں ہونے والی کسی بھی گفتگو کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اَہم ہیں اور اُن کے بارے میں میری تحریر کو اِسی روشنی میں پڑھنا چاہیے۔ جس چیز نے میرے ذہنی ارتقا کو سمجھنے میں مدد کی وہ بیسویں صدی کے شاعر اور فلسفی علامہ اِقبال کی تعلیمات تھیں۔
اگرچہ سائنس نے بیسویں صدی کے اوائل میں متعصب مادیت کو ترک کر دیا لیکن سیاسی نظریات اب بھی نیوٹنی دور کے پرانے الفاظ کی پیروی کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اقبالؔ جیسی شخصیت اِس تاثر سے گریز کرتی ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں یا ہم سب کچھ جاننے کے راستے پر ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کمیونٹی اور اِنفرادی ترقی کے بنیادی تعمیراتی بلاک کے طور پر ایمان عمل میں آتا ہے۔ اقبالؔ اُن چند فلسفیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے نیوٹن کے بعد کے اُس سائنسی علم کو عقیدے کے سوالات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔
میرے یونیورسٹی میں داخلے کے فوراً بعد ایک سانحہ پیش آیا۔ میرے والد کو جنوری 2014 ء میں پیٹ کا سرطان تشخیص ہوا اَور میرا دُوسرا اَور تیسرا سمیسٹر دہلی کے راجیو گاندھی کینسر انسٹی ٹیوٹ میں گزرا۔ جب مَیں نے اپنے والد سے پوچھا کہ مجھے پڑھائی چھوڑ کر صرف ملازمت کی تلاش کرنی چاہیے، تو اُنہوں نے مجھے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا ”تمہارا پیسہ مجھے نہیں بچائے گا۔“ میری والدہ جو میرے والد کی ہر مشکل وقت کی ساتھی تھیں، وہ چاہتی تھیں کہ مَیں اپنے سابقہ کیرئیر پر واپس چلا جاؤں۔ اُنہوں نے میرے والد سے کہا کہ وہ مجھے واپس جانے کو کہیں۔ لیکن میرے والد نے اُن سے کہا ”اِسے رہنے دو، یہ ہماری جدوجہد کی تاریخ لکھے گا۔“
مئی 2014 ء میں جب نریندر مودی نے وزیرِاعظم کا حلف اٹھایا، تو میرے والد اسپتال میں ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے۔ ”شرجیل! تمہیں بھارت چھوڑ دینا چاہیے۔“ اُنہوں نے کہا۔ ”امریکہ جاؤ، وہاں پڑھو، اگر تم یہیں رہو گے تو سیاست میں آؤ گے۔ یہ ایک جدوجہد ہوگی اور وہ تمہیں جیل بھیج دیں گے۔“ مَیں نے سوچا کہ شاید یہ اُن کی پدرانہ جبلت ہے، کیونکہ وہ میری حفاظت کے لیے آس پاس نہیں ہوں گے۔ اپنے والد کے پاس واپس آ کر مَیں نے اُن سے دو چیزیں سیکھیں۔ ایک، اِس تقسیم نے ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کو منظم طریقے سے خارج کر دیا اور یہ کہ محمد علی جناح مرکزیت کے خلاف اور حقیقی وفاقی ڈھانچے اور اَقلیتی حقوق کے اپنے مطالبات میں درست تھے۔ اور، دو، کہ یہ جمہوریت نہیں ہے اگر ہمارے پاس ووٹ دینے کے لیے صرف ایک فریق ہو۔
برابری اور سیکولرازم پر لب کشائی کرنا کافی نہیں ہے۔ ہر چیز کو کلاس تک کم کرنا بھی مشکل ہے۔ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ یہ محسوس کیا جائے کہ مسلمانوں اور ہندوستان کی دیگر اقلیتوں کو شناخت کی بحالی کے لیے نظام کی تبدیلی ضروری ہے اور اِسی وجہ سے قائدِاعظم 1947 ء کے مقابلے میں آج زیادہ اَہم ہیں، جب وہ ”سیکولر“ گاندھیائی قوم پرستی کے بیانیے میں برہمنی قوتوں کے متضاد رُجحانات اور مسلمانوں کی بیگانگی کا اندازہ لگا رہے تھے، جو جناح اور اِقبال دونوں کے مطابق بنیادی طور پر برہمنی احیاء پسندی سے مختلف نہیں تھے بلکہ سرمایہ داروں کے ایک بڑے حصّے کی مدد سے مرکزیت کے ساتھ مرکزیت پر مبنی قوم پرستی اور مرکزیت کی طرف کے اُصول پر مبنی تھے۔ اصل کام مرکزیت اور اکثریت پسندی کا مقابلہ کرنا تھا، جس کے لیے مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح کے استحکام کی ضرورت تھی۔
بعینہٖ 1946 ء کے انتخابات نے ثابت کیا کہ برطانوی ہندوستان کے تمام صوبوں میں مسلم ووٹروں کی اکثریت ایسا ہی محسوس کرتی ہے۔ مسلم ووٹوں میں سے آل انڈیا مسلم لیگ نے ڈالے گئے ووٹوں کا 75 فی صد اور صوبوں میں اسمبلی کی 87 فی صد نشستیں حاصل کیں۔
وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ قرآنی تعلیمات کے مطابق سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار یعنی متقی ہو نہ کہ کسی خاص قبیلے یا مذہب یا قوم کا۔ یہ توحید کا عالمی نظریہ ہے۔ اِس جہت کی تعریف کرنے میں ناکامی اِس خطرناک تصوّر کو جنم دیتی ہے کہ دوسرے ہم سے کم اہم ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو جیل میں بھی میرے ذہن پر قابض ہیں لیکن مَیں اِن کے بارے میں کھل کر لکھ نہیں سکتا۔

